.

معزول یمنی صدر صالح کا "بات چیت "کے اختتام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے بیانات کے ذریعے تصفیے کے بنیادی مراجع کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کی جانب سے جاری تیاریوں اور رابطوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

معزول صالح نے خیلجی منصوبے ، قومی مکالمہ کانفرنس کے نتائج اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جو یمنی بحران کے کسی بھی تصفیے کے واسطے بنیادی مراجع ہیں۔

صالح کا موقف ہے کہ مذکورہ مراجع درحقیقت بیرونی ایجنڈوں کو پورا کرتے ہیں لہذا یہ قابل قبول نہیں۔

صالح نے مزید چڑھائی کرتے ہوئے خلیجی منصوبے کو مردہ قرار دیا جب کہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 کو جنگ کا فیصلہ شمار کیا اور ساتھ ہی مکالمے کا معاملہ ختم ہونے کا اعلان کیا۔

معزول یمنی صدر کا موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ باخبر ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مشاورت کے نئے دور کی تیاری کے سلسلے میں رواں ہفتے کے دوران پھر سے رابطوں کا آغاز کریں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ولد الشیخ احمد ترمیم شدہ نقشہ راہ سرکاری طور پر یمنی حکومت کے حوالے کریں گے۔ اس سے قبل ولد الشیخ کی جانب سے پیش کردہ نقشہ راہ کو یمنی حکومت کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یمنی حکومت کا موقف تھا کہ نقشہ راہ بنیادی مراجع سے دست بردار ہو کر بغاوت کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔