.

داعش نے کرکوک سے فرار کی قیمت 600 ڈالر مقرر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوجی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ داعش نے کرکوک گورنری میں اپنے زیر قبضہ علاقے سے فرار کے خواہش مندوں شہریوں کو پیش کش کی ہے کہ وہ فی کس چھ سو ڈالر ادا کر کے محفوظ مقام پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے 'اناطولیہ' سے بات کرتے ہوئے کرکوک میں بیش مرکہ فورس کے بریگیڈیئر نے بتایا کہ روزانہ داعش کے زیر نگیں علاقوں سے سیکڑوں شہری 600 ڈالر فی کس 'فیس' ادا کر کے باہر نکل رہے ہیں۔ داعش علاقہ چھوڑنے سے پہلے شہریوں کی ڈی بریفنگ کرتی ہے۔

مال لگائیں، داعش آنکھیں موند لے گی

امیرہ حسن نامی عراقی خاتون نے بتایا کہ انہوں نے جنوبی کرکوک کے مضافات الحویجہ کا الرملہ گاؤں چھ سو ڈالر ادا کر کے چھوڑا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب آپ رقم ادا کر دیتے ہیں تو داعش آپ سے نظریں چرا لیتی ہے۔ آٹھ افراد پر مشتمل ہمارے گھرانے نے داعش کا جہنم زار چھوڑنے پر انتہا پسندوں کو چار ہزار دو سو ڈالر ادا کئے۔"

امیرہ حسن نے بتایا کہ ہم نے داعش کے زیر نگیں علاقے سے نکلنے کی خاطر انتہائی دشوار گزار راستہ اختیار کیا جس میں جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھی تھیں۔ ایک اور عراقی خاتون امیرہ سامی نے علاقے سے فرار کے بعد بتایا کہ "جس کے پاس پیسے ہیں، وہی نکل سکتا ہے۔ جس کے پاس پیسے نہیں وہ گھر میں دبکا رہے۔ میرے بچوں، پوتوں اور میں نے جو جمع پونجی تھی، داعش کو دیکر جان خلاصی کرائی ہے۔"

یاد رہے کہ داعش نے 2014 سے کرکوک گورنری کے مضافاتی علاقے الحویجہ، الزاب اور الریاض پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ علاقہ سنی عربوں کا آخری گڑھ ہے جہاں ترکمان، عرب اور کرد رہائش پذیر ہیں۔