.

یمنی فوج نے حوثیوں کو میزائل اسمگلنگ کی سازش ناکام بنا دی

عدن سے صنعاء جانے والے اسلحہ بردار ٹرک قبضے میں لے لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی فوج نے ایران نواز حوثی باغیوں کی بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور میزائلوں کے حصول کی ایک اور سازش بناتے ہوئے میزائلوں سے لدے ایک ٹرک کو پکڑا ہے۔ یہ ٹرک عدن سے صنعاء جا رہا جسے لحج گورنری کے شمالی علاقے حبیل الرید سے پکڑا گیا۔ یمنی فوج کے بیان کے مطابق اسلحہ برادر ٹرک پر ’تھرمل راکٹ‘ اور دیگر اسلحہ کی بڑی مقدار لوڈ کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عاید کر رکھی ہے مگر اس کے باوجود باغی ایران اور بعض دوسرے ملکوں سے اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب یمنی فوج نے باغیوں کی جانب سے میزائلوں کے حصول کی کوشش ناکام بنائی ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد بار حوثی باغیوں نے اسلحہ کے حصول کی غیر قانونی کوششیں کیں مگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔

عدن کی بندرگاہ سے صنعاء تک یہ اسلحہ بردار ٹرک کیسے پہنچا؟ اس معاملے میں کئی سوالات کوبھی جنم دیا ہے کیونکہ کوئی بھی گاڑی عدن میں قائم یمنی حکومت کی اجازت اور مکمل تلاشی کے بغیر سفر نہیں کرسکتی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد عدن حکومت کی صفوں میں ہو سکتے ہیں جو حوثیوں کے لیے سہولت کار کار کردار ادا کر رہے ہیں۔ ورنہ میزائلوں سے لدا کوئی ٹرک اتنا طویل سفر کیسے طے کر سکتا ہے۔ یمنی وزیر داخلہ میجر جنرل حسین عرب نے ٹرک ڈرائیور کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر داخلہ سے روٹ پرمٹ لے رکھا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حوثی باغیوں نے اسلحہ کے حصول کے لیے ایک نیا روٹ اختیار کیا ہے۔ باغی عدن سے آنے والے ٹرکوں کو لحج اور الضالع گورنریوں کے راستے ذمار شہر میں پہنچاتے اور وہاں سے صنعاء لے جاتے ہیں۔ پہلا راستہ بھی اپنی جگہ کام کر رہا ہے۔ یہ جنوبی یمن کے ساحل سے صنعاء کو ملاتا ہے۔ مگر یہاں عرب اتحادی فوج کی کڑی نگرانی ہے۔ اس لیے باغیوں کو اسلحہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔