.

ایران کی شام سے "حزب الله" کے اخراج کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام کی سرزمین سے لبنانی ملیشیا "حزب الله" کے اخراج کی تردید کی ہے۔ یہ تردید ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بشار الاسد کے دفاع کے لیے موجود تمام غیر ملکی ملیشیاؤں کو واپس بلا لیے جانے کا امکان ہے۔ ریاستی امور کے لیے ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے مشیر اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ شام سے "حزب الله" کے اخراج کی باتیں محض دعوے کی حد تک ہیں۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کے بعد دیے گئے بیان میں کہی۔ ولایتی کے مطابق شام سے غیرملکی ملیشیاؤں کے انخلاء کے امکان سے متعلق خبریں "دشمن" کی جانب سے کیا جانے والا "پروپیگنڈہ" ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" نے منگل کے روز بتایا ہے کہ اکبر ولایتی نے باور کرایا ہے کہ شام کے حوالے سے روس کے ساتھ کوآرڈی نیشن جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عرق ، شام ، فلسطین اور لبنان میں ان کے ملک کی مداخلت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی نے ولایتی سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ خامنہ ای سے ملاقات کرنے اور " داعش کے بعد ممکنہ خطرات" پر تبادلہ خیال کے واسطے ایران آئے ہیں۔ المالکی کی یہ بات کہ وہ داعش کے بعد ممکنہ خطرات پر بات کرنے کے لیے ایرانی ذمے داران کے پاس گئے ہیں یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس لیے کہ نہ تو ایرانی اہل کار داعش کے نشانے پر ہیں اور نہ ہی ایرانی سرزمین پر داعش کی کوئی عسکری کارروائیاں عمل میں آ رہی ہیں۔

اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاوش اوگلو نے گزرے سال کے اختتام پر شام سے تمام ملیشیاؤں کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اوگلو نے کہا تھا کہ "شامی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ شام میں اقتدار کی پر امن سیاسی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے"۔ اوگلو کا کہنا تھا کہ "ہم سب کو چاہیے کہ ایک طاقت ور پیغام بھیجیں جس میں ہم یہ مطالبہ کریں کہ تمام غیرملکی ملیشیائیں شام کی سرزمین سے فوری طور پر کوچ کر جائیں"۔

ترکی کے اس مطالبے کے جواب میں شامی حکومت کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "حزب الله" ملیشیا شامی حکومت کے مطالبے پر موجود ہے۔ واضح رہے کہ ترک وزیر خارجہ نے اپنے مطالبے میں "حزب الله" کو مخصوص نہیں کیا تھا بلکہ تمام عراقی ، افغانی ، ایرانی ، لبنانی اور دیگر غیر ملکی ملیشیاؤں کی بات کی تھی۔