.

اخوان کی قیادت کا رُجوع "فریب" ہے : سعودی محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند جماعتوں کے امور کے سعودی ماہر اور محقق نایف العساکر کا کہنا ہے کہ داعش اور القاعدہ سمیت شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں بہنے والے سعودیوں کے لہو کی ذمے داری اُن عناصر پر ہے جو خود کو "بیداری اور احیاءِ نو کا داعی" کہتے ہیں.. درحقیقت یہ "فتنے کے داعی" ہیں۔ العساکر نے واضح کیا کہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے اور توبہ کے حوالے سے ان عناصر کے جو اعلانات ہیں وہ محض "دھوکہ اور دجل" کے سوا کچھ نہیں اور یہ الاخوان المسلمین جماعت کی جانب سے ہدایات ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں نایف العساکر نے باور کرایا کہ انہوں نے اخوانی اور سروری دونوں جماعتوں کے حالات کا بھرپور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد ان کے ارکان کو گرگٹ کی طبیعت رکھنے والا قرار دیا۔ ان لوگوں کے ساتھ رہنے والوں کو یہ اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ اسلام کے نفاذ کے حوالے سے کتنے دور ہیں۔ حسن البنا نے اپنی جماعت اخوان کے ذریعے اہل سنت و الجماعت میں ایک نئی باطنیہ فرقے کو داخل کرنے کی کوشش کی۔ یہ ہی حال ہمیں السروریہ جماعت کے بانی محمد سرور کی دعوت میں بھی نظر آیا۔

العساکر کے مطابق جماعتوں کی توبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غطی کا اعلان کریں اور اپنی جماعت یا تنظیم کا معاملہ منظر عام پر لائیں۔ ان تنظیموں نے اللہ کے حکم اور جو کچھ اس نے نازل کیا ان امور کو چھپایا اور یہ ظاہر کیا کہ اللہ کا دین درحقیقت تشدد ، خون ریزی اور مسلمانو کی تکفیر ہے۔ لہذا جو کوئی اس موقف سے توبہ کرے اس پر لازم ہے کہ واضح کرے اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ جھوٹا ہے۔ اس حوالے سے صف اول کی قیادت کی جانب سے جو کچھ کیا گیا وہ توبہ نہیں بلکہ یقینا منظم امور ہیں جن کو تنظیم نے اپنے پیروکاروں کے لیے وضع کیا ہے۔ اسی بات کو علی عشماوی نے اپنی کتاب "التاريخ السري لجماعة الإخوان المسلمين" (الاخوان المسلمین جماعت کی خفیہ تاریخ) میں بیان کیا ہے۔

العساکر کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان عناصر کو ان کے حقیقی وصف یعنی " فتنے کے داعی" کے نام سے پکاریں۔ ان لوگوں نے ہمارے وطن اور اس سے قبل ہمارے مذہب کی صورت مسخ کرنے کے لیے بہت کچھ کرلیا۔ بقول ڈاکٹر سلامہ العتیبی کہ " چندہ اور عطیات جمع کرنے والا اخوانی.. ان لوگوں نے عطیات چوری کیے ، یتیموں کا مال کھایا ، اپنی تقریروں اور اشتعال انگیزیوں سے خون ریزی کا بازار گرم کیا اور پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا ذکر کرتے ہیں۔ جس چیز کو یہ رجوع کرنے کا دعوی کرتے ہیں درحقیقت وہ اخوان کی ہدایات ہیں جو سوائے دھوکے اور دجل کے کچھ نہیں۔

سعودی محقق نے واضح کیا کہ جدید ٹکنالوجی کے عام ہوجانے کے بعد لوگوں نے اخوان کی حقیقت کو آشکار کرنا شروع کیا ، اخوان نے اس کو دبانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسے آزاد خیالوں کے پروپیگنڈے کا نام دیا جس کو مختلف ممالک اور انٹیلی جنس عناصر چلاتے ہیں۔ تاہم پھر ان ہی کے اندر سے لوگ ان کی حقیقت بیان کرنے کے لیے میدان میں آ گئے۔

اس کے علاوہ متعدد شُیوخ نے بھی ان کو بے نقاب کیا جن میں شيخ محمد امان الجامی ، شيخ ربيع المدخلی ، شيخ عبد السلام العبد الكريم ، شيخ صالح الفوزان ، شيخ صالح اللحيدان اور شيخ عبد الله الغديان شامل ہیں۔ سعودی عرب کے سینئر علمائے کرام کی کمیٹی بنا استثناء اخوان پر دہشت گرد جماعت ہونے کا حکم لگاتی ہے۔

نایف العساکر کے مطابق ماضی میں ان کی مخالفت کرنے والوں کو دین کے نام پر پھنسا دیا جاتا تھا تاہم اب ایسا نہیں ہے۔ یہ تنظیمیں اس وقت تک کسی کو قبول نہیں کرتی تھیں جب تک وہ شخص سید قطب ، حسن البنا ، ندوی اور مودودی کی کتابوں کا خالص قاری نہ ہو اور کسی کی آئیڈیل شخصیات میں مذکورہ نام کے علاوہ عبد الله عزام اور دیگر کا نام نہ ہو۔

العساکر کے نزدیک اخوانی طرز فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے آج حالات سازگار ہیں اور اس کو آئندہ نسلوں میں منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے تاہم شرط یہ ہے کہ اس حوالے سے کام یوں ہی چلتا رہے اور کسی قسم کی پابندی یا روک ٹوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اخوانیوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی رہی کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے کام کر رہے ہیں تاہم جب ان کے حیات سرخیلوں جیسے قرضاوی ، سویدان ، نفیسی ، شایجی ، شافی ، عجمی ، حجاج العجمی اور حاکم المطیری وغیرہ کو بے نقاب کیا گیا تو پھر کافی لوگوں کی عقل ٹھکانے آ گئی۔

نایف العساکر نے بتایا کہ اخوانی قیادت تنظیم کی خواتین کی سرگرمیوں پر پورا کنٹرول رکھتے ہیں۔ خواتین کے شعبے میں بہت سے مراکز ہیں جن پر اخوان کی گرفت ہے۔ اس طرز فکر کو پھیلانے کے لیے تنظیم سے منسلک طالبات تعلیمی اکیڈمیوں میں باقاعدہ سرگرم ہیں۔

العساکر نے انکشاف کیا کہ اخوان درحقیقت دو وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے نفرت کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ امارات نے اخوانی افکار کا راستہ روک دیا اور ان کے ساتھ مثالی انداز سے نمٹا گیا جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسرا یہ کہ سعودی عرب اور امارات مشترکہ طور پر اس ایرانی صفوی گھیراؤ کے سامنے صف آرا ہو گئے جس کو وہ عرب دنیا کے گرد ڈالنا چاہتے تھے۔ اللہ کے فضل کے بعد خادم حرمین شریفین کے دلیرانہ فیصلے نے اہم کردار ادا کیا جس کی امارات اور دیگر برادر ریاستوں نے بھرپور تائید کی۔