بشار کے چینل کی بندش.. ملازمین کو ملیشیا میں بھرتی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے پارلیمنٹ میں ایک رکن نے تجویز پیش کی ہے کہ میڈیا کے شعبے میں "فاضل" ملازمین کو اُس نئی ملیشیا میں بھرتی کر لیا جائے جس کا اعلان وزارت دفاع نے چند ہفتے قبل کیا ہے۔ مذکورہ ملیشیا کو "5 ویں فورس" کا نام دیا گیا ہے۔ تجویز پیش کرنے والے رکن پارلیمنٹ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

بشار حکومت کے وزیر اطلاعات محمد رامز ترجمان شامی ٹیلی وژن کا چینل 1 بند کر چکے ہیں۔ اس چینل نے گزشتہ صدی میں 60ء کی دہائی میں اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک ریڈیو اسٹیشن "صوت الشعب" کی بھی بندش عمل میں آئی ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق اس اقدام کا مقصد "اخراجات کو قابو کرنا" ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان چینلوں کے ملازمین کو دیگر چینلوں میں ضم کیا جائے گا اور اس کے بعد جو "اضافی" عملہ رہ جائے گا اس کو دیگر "حکومتی وسائل" میں شامل کیا جائے گا۔ شامی وزیر نے اس بات کی تردید کی کہ میڈیا کے اضافی ملازمین کو وزارت دفاع کی "5 ویں فورس" میں بھرتی کرنے کی تجویز انہوں نے دی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی عمل میں آنے والی ضم کی کارروائیاں بشار الاسد کی حکومت کے معاشی بحران کے دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ بشار حکومت بجٹ میں وسائل کی شدید کمی کے بعد اخراجات کم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے کیوں کہ عوام کے خلاف جنگ میں پانی کی طرح پیسہ بہانے اور ہر سطح پر حکومتی اہل کاروں کی بدعنوانی کے طفیل ملک کی معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں