.

کویت کے مسیحیوں کی کہانی... خلیج کے اکلوتے پادری کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے 66 سالہ مسیحی پادری عمانوئيل بنجامين غُریب تقریبا نصف صدی پرانے ایک واقعے کو یاد کر کے آج بھی حیران ہوجاتے ہیں۔ قصہ یوں ہے کہ انٹرمیڈیٹ کے دوران ان کا اسلامی شریعہ کے مضمون کا امتحان تھا اور وہ اس کے نتیجے کے حوالے سے کچھ پریشان تھے۔ تاہم جب اس مضمون کے نمبر ان کے سامنے آئے تو وہ یہ دیکھ کر بھونچکا سے رہ گئے کہ انہوں نے اپنے مسلمان ساتھیوں سے زیادہ اچھے نمبر حاصل کیے تھے۔

بحرین کے علاوہ کویت وہ دوسرا خیلجی ملک ہے جہاں مسیحی برادری معاشرے کا حصہ بن کر شہریت کے تمام عناصر سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ کویت میں مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 2000 ہے جو بحرین کے مقابلے میں کئی گُنا زیادہ ہے۔

کویت اور بحرین میں موجود مسیحیوں کی اکثریت کا اصل تعلق ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں سے ہے جب کہ بقیہ افراد کا بنیادی طور تعلق عراق اور فلسطین سے ہے۔

کویت میں 1982 میں شہریت کے قانون میں ہونے والی ترمیم نے ریاست میں مسیحیوں کے حجم کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیوں کہ ریاست کے شہریت کے نظام میں مسیحیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

آٹھ جنوری 1999 کو کویت میں مسیحی برادری کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل دیکھنے میں آیا جب عمانوئيل غُريب کو قومی انجیلی کلیسا کا سرپرست مقرر کر دیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس کے بعد وہ اس منصب پر پہنچنے والے واحد خلیجی بن گئے۔

غُریب کے مطابق " کویت کا آئین اس بات پر پوری وضاحت سے زور دیتا ہے کہ ریاست کا ہر مسیحی شہری مقامی انتخابات میں خود کو نامزد کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ دن آئے کہ عوام کا عام مجموعہ ہمیں منتخب کرنے کو قبول کر لے تو ہمارے لیے بہت بہتر ہوگا"۔

کیا کویتی مسیحی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ؟

کویت میں آخری چند برسوں میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات آزمائش کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا سے متعلق جذبات میں اضافہ اور ساتھ ہی داعش تنظیم سمیت شدت پسند عناصر کے حملے ہیں۔

پادری غُریب کا کہنا ہے کہ مصر کے درالحکومت میں چرچ پر حملے کے نتیجے میں 25 افراد کی ہلاکت پر کویت میں مسیحی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ " حالات میں تغیر آنے کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ ہماری دانش مند قیادت ملک کی اندرونی صورت حال کی حفاظت کی ذمے داری پوری کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ کرسمس اور نئے سال کی آمد کے موقع پر ہمارے کلیساؤں کی سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کو سخت کر دیتی ہے"۔

کویت میں تعلیمی نصاب میں مسیحی مذہب کا مواد شامل کرنے کی اجازت کے حوالے سے پادری غُریب کا کہنا تھا کہ " موجودہ صورت حال میں کویت اور خطے میں ہمیں اس کی ضرورت نظر نہیں آتی اور اس وقت یہ مناسب بھی نہیں ہوگا"۔

یاد رہے کہ کویت میں غیر مسلموں کو سرکاری اور نجی اسکولوں میں اسلامی لیکچروں اور دروس سے غیر حاضر ہونے کی اجازت ہے۔