امریکی کانگریس : اسرائیلی بستیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی کانگریس نے جمعرات کی شام غالب اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں سلامتی کونسل کی جانب سے دسمبر میں جاری ہونے والی اُس قرار داد کی سخت مذمت کی گئی ہے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی اراضی میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ روک دے۔

علامتی طور پر بڑی اہمیت کی حامل کانگریس کی اس قرار داد کے حق میں 342 جب کہ مخالفت میں 80 ووٹ آئے۔

قرارداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے 23 دسمبر کو جاری ہونے والی قرارداد نمبر 2234 واپس لی جائے۔ اس قرار داد کے حق میں 14 ممالک نے ووٹ دیا تھا جب کہ امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ 1976 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب امریکا نے اپنا ویٹو کا حق استعمال کرنے سے انکار کر دیا جسپر ریپبلکنز کی جانب سے وسیع پیمانے پر اوباما انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی کانگریس کی قرارداد پر رائے شماری کے لیے ہونے والے اجلاس میں اسپیکر پال راین نے کہا کہ " یہ حکومت ہمارے حلیف اسرائیل سے دست بردار ہو گئی اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ اسرائیل کو ہماری اشد ضرورت تھی"۔

کانگریس کی قرار داد میں یہ بھی کہا گیا " امریکی حکومت پر لازم ہے کہ وہ مستقبل میں سلامتی کونسل کی ہر اُس قرارداد کے خلاف ویٹو کا استعمال کرے جو جانب دارانہ یا اسرائیل مخالف ہو"۔

مغربی کنارے میں 26 لاکھ فلسطینیوں کے بیچ 4.3 لاکھ یہودی آباد کار رہتے ہیں۔ عالمی برادری مقبوضہ اراضی میں بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کے سامنے رکاوٹ شمار کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں