روس نے شام سے اپنی افواج کو نکالنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی فوج نے جمعے کے روز شام میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ خطے میں موجود روسی بحریہ کا واحد طیارہ بردار بحری جہاز بھی جلد واپس بلا لیا جائے گا۔

روسی فوج کے کمانڈر والیری گیراسیموف کا کہنا ہے کہ "روسی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ولادیمر پوتین کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے روسی وزارت دفاع شام میں متعین اپنی افواج کو کم کرنے کا آغاز کر رہی ہے"۔ گیراسیموف کے مطابق طیارہ بردار جہاز ایڈمرل کوزنیٹسوو سب سے پہلے واپس جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پوتن نے افواج میں کمی کے احکامات 29 دسمبر کو دیے تھے۔

ادھر شام میں روسی افواج کے کمانڈر اینڈری کرتاپولوو کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار جہاز پر موجود لڑاکا طیاروں نے شام میں اپنے مشن کے دوران 420 اُڑانوں کے ذریعے 1252 اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے باور کرایا کہ روس کے پاس اب بھی شام میں ایس-300 اور ایس-400 میزائل نظام کی شکل میں کافی فضائی دفاعی صلاحیت ہے۔

پوتن نے اس سے قبل گزشتہ مارچ میں بھی شام میں کارروائیوں میں شریک روسی افواج میں کمی کا اعلان کیا تھا تاہم ماسکو نے شام میں افواج کا از سر نو تعین کیا جس کے نتیجے میں خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں لڑائی میں اضافہ ہو گیا۔

بشار الاسد کا نمایاں ترین حلیف روس گزشتہ برس 30 اپریل سے شامی حکومت کی افواج کی سپورٹ کے لیے شام میں فضائی آپریشن کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں