جنسی اسکینڈل میں ملوث قاری خامنہ ای کا حجام اور بیٹے کا اتالیق نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں حفاظ قرآن کے ساتھ مبینہ طورپر بدفعلی کے سنگین جرم کےمرتکب سرکاری قاری سعید طوسیٰ کے بارے میں ایرانی ذرائع ابلاغ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص سمجھے جانے والے قاری طوسی سپریم لیڈر کے حجام خاص اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے خصوصی اتالیق بھی رہ چکے ہیں۔

خیال رہےکہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک درجن کے لگ بھگ کم عمرحفاظ قرآن کے ساتھ بد فعلی کے مرتکب قاری طوسی کے شرمناک اسکینڈل کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی مگر اس کیس نے عوام الناس میں قاری طوسی کے خلاف نفرت اور حقارت کی آگ بھڑکا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد ایرانی شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے انہیں قاری حضرات کے پاس بھجوانا چھوڑ دیا تھا۔

قاری طوسی کے ظلم کا شکار ہونت والے ایک لڑکے نے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے امریکی ریڈیو سےبات کرتے ہوئے کہا کہ معلم قرآن بننے سے قبل سعید طوسیٰ حجام کا کام کرتا تھا اور وہ خامنہ ای کا بھی کئی سال تک حجام خاص رہ چکا ہے۔

ریڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قاری سعید طوسی کا خامنہ ای سے تعارف 1979ء کے انقلاب سے بھی پہلے کا ہے۔ سعید طوسی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی قرآن پڑھاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی جوڈیشل حکام نے سعید طوسی کی درندگی کا شکار ہونے والے طلباء کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم گذشتہ چھ ماہ سے یہ معاملہ خاموشی کی دبیز تہہ میں چلا گیا۔ ایسے لگ رہا ہے کہ خامنہ ای کے مقرب اور ان کے بیٹے کے اتالیق کو بچوں پر جنسی تشدد کیسے کی تحقیقات سے بچانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں