مصر:لڑکیوں کی جبری بھرتی کی افواہوں کی سختی سے تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصری حکومت نے کم عمر لڑکیوں کی سرکاری محکموں میں جبری بھرتیوں سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری وزارت برائے سماجی بہبود کی خاتون عہدیدار انجینیر امانی غنیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کی جبری بھرتیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سول سروس قانون کی دفعہ 86 مجریہ 1973ء کے تحت جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کے لیے ایک سال سروس کرنا لازمی ہے اور اس کی پابندی متعلقہ ادارے خود کراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت بہبود آباد کی جانب سے عائلی تنظیم سازی، انتظامی امور اور ناخواندگی ختم کرنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو سرکاری اداروں میں کچھ عرصہ کے لیے خدمات انجام دینے کے لیے مختص کیا جاتا ہے مگر وہ بھرتی بھی جبری نہیں ہوتی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں