روس کے خود کار اور غیر معمولی ٹینک شام میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" نے مغربی انٹیلی جنس ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اپنے جدید ترین خودکار ٹینک Uran-9کو شام بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ غیر معمولی صلاحیت کے حامل یہ ٹینک راکٹ لانچروں اور مشین گنوں سے لیس ہیں۔ ان کو لڑائی کے مقام سے دور رہ کر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے استعمال کیا جاسکتا ہے.. اس طرح زمینی افواج کے اہل کاروں کو خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

اخبار کے مطابق روسی ساختہ اس ٹینک میں دیگر خصوصیات کے علاوہ ایسا نظام بھی نصب ہے جس کے ذریعے دور تک کا فاصلہ ویژن میں آ جاتا ہے اور بڑی مسافت سے خطرے کو دریافت کیا جاسکتا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ٹینک کا وزن 14.7 ٹن ہے اور اس نوعیت کے ٹینکوں کو شام بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ روس شامی اپوزیشن کے گروپوں کے خلاف سڑکوں اور گلی کوچوں میں ہونے والی لڑائی میں کامیاب ہو سکے اور روسی یا شامی سرکاری فوج کے اہل کاروں کو خطرات لاحق نہ ہوں۔

اس ٹینک کی تیز ترین رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ کسی بھی نہر یا جمع شدہ پانی کو بآسانی عبور کر سکتا ہے۔ یہ مشکل ترین موسمی حالات میں بھی ایندھن کی ضرورت کے بغیر 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔

"سنڈے ٹائمز" اخبار نے ایک مغربی عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں جنگ نے روس کو اس بات کا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے جدید ، پیچیدہ اور متنازعیہ ہتھیاروں کو نمائش کے لیے پیش کرے۔ روس اب تک شامی اپوزیشن کے خلاف اپنے ہتھیاروں کی 100 جدید اقسام کو استعمال میں لا چکا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ روس اس جدید ترین اسلحے کا تجربہ شامی عوام پر کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں