’فیس بک‘ نے حماس کے دسیوں صفحات بلاک کر دیے

آزادی اظہار اپنے ہی ہاتھوں پابندیوں کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آزادی اظہار رائے کا نعرہ لگانے والی سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائیٹ ’فیس بک‘ آخر کار صہیونی ریاست کے دباؤ کا شکار ہو کراپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزیاں کرنے لگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’فیس بک‘ انتظامیہ نے فلسطینی کارکنوں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے وابستگان کے دسیوں صفحات بلاک کردیے ہیں۔

’حماس‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فیس بک‘ انتظامیہ نے جماعت کے مقربین اور وابستگان کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت اب تک دسیوں صفحات بلاک کیے گئے ہیں۔

فیس بک کے حالیہ آپریشن کے دوران حماس کے مقربین کے 90 صفحات بند کیے گئے ہیں جب کہ حماس کے ذاتی 30 صفحات کو بلاک کیا گیا ہے۔

حماس نے فیس بک انتظامیہ پر صہیونیت نوازی کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی دعوے دار فیس بک خود بھی اس قانون کی خلاف ورزی کی راہ پر چل پڑی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت عدالتوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اسرائیل مخالف مواد ہٹانے کا حکم صادر کرسکیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں