.

استنبول حملے کے مقتولین کا ٹھٹھا اڑانے پر 12 افراد کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے دارالحکومت عمان میں اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے ترکی کے شہر استنبول میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر ایک دہشت گرد کے حملے کا نشانہ بننے افراد اور ان کے خاندانوں کا مذاق اڑانے والے بارہ افراد کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی بطرا کی اطلاع کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل عبداللہ ابو غنم نے اس کیس کی عدالتی تحقیقات شروع کردی ہے۔

ایک عدالتی ذریعے کے مطابق ان افراد کے خلاف مقتولین ، زخمیوں اور ان کے خاندانوں کے خلاف توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے اور ان کی تضحیک کرنے کے الزامات ہیں۔

تفتیش کاروں نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز ریمارکس پوسٹ کرنے والے ان افراد کا سراغ لگا لیا تھا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان پر سائبر جرائم قانون کی دفعہ 11 کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

استنبول میں نئے سال کی پہلی رات ایک نائٹ کلب میں مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس سے انتالیس افراد ہلاک اور کم سے کم ستر زخمی ہوگئے تھے۔دہشت گردی کے اس واقعے کے مقتولین میں دو اردنی بھی شامل تھے اور چھے زخمی ہو گئے تھے۔ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔