.

اسدی فوج کی خلاف ورزیاں، شام میں جنگ بندی خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں روس اور ترکی کی کوششوں سے 30 دسمبر 2016ء کو طے پایا عارضی جنگ بندی معاہدہ ایک بار پھر صدر بشار الاسد کی جارحیت کی نذر ہونے لگا ہے۔ جنگ بندی میں شامل شامی اپوزیشن کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ شامی فوج کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیوں بالخصوص دمشق کے نواحی علاقے وادی بردی میں شہری آبادی پر وحشیانہ بمباری سے جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں جنگ بندی سمجھوتے میں شامل اپوزیشن گروپوں کی طرف سے سوسل میڈیا بالخصوص ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کیے گئے بیانات میں خبردار کیا گیا ہے کہ شام میں تیس دسمبر سےجاری عارضی جنگ بندی نقش بر آب ثابت ہونے والی ہے۔ اپوزیشن کی قیادت نے روس اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو ناکام ہونے سے بچانے کےلیے اقدامات کریں ورنہ صدر بشارالاسد کی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کسی بھی وقت معاہدے کو مکمل طور پر ختم کرسکتی ہیں۔

شام میں جنگ بندی سمجھوتے کا حصہ شامی اپوزیشن کی تنظیم ’صقور الشام‘ کے ترجمان مامون حاج موسیٰ نے ’الحدث‘ ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیس دسمبر کے روز جب سے شام میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا اسی وقت سے شامی فوج اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج، شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور دیگر اسد نواز گروپ جنگ بندی کو ناکام بنانے کا تہیا کیے ہوئے ہیں۔

مامون موسیٰ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اور شامی فوج کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں اپوزیشن کو وادی بردی میں مذاکرات روکنا پڑے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ روس کے تین وفود نے وادی بردی میں ’نبع عین الفیجہ‘ کے مقام میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ان کے ہمراہ مسلح ملیشیا کے جنگجو بھی داخل ہونا چاہتے تھے۔ تاہم مقامی آبادی اور اپوزیشن کے عسکری گروپوں نے اسد نواز جنگجوؤں کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

ادھر شام میں جاری لڑائی پر نظر رکھنے والے اپوزیشن کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز وادی بردی میں تین مقامات پر شامی فوج اور اپوزیشن کےدرمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے حالیہ ایام میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سمیت 40 سے زاید فضائی حملے کیے ہیں۔

قبل ازیں شامی اپوزیشن نے ہفتے کے روز ان خبروں کی تردید کی تھی کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان وادی بردی سے دمشق کو پانی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ اپوزیشن کاکہنا ہے کہ عین الفیجہ سے دمشق کو پانی سپلائی کی بحالی کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ احرار الشام گروپ کے ایک عہدیدار نے حزب اللہ کے مقرب ذرائع ابلاغ کی طرف سے جاری کردہ اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن نے عین الفیجہ سے دمشق کو پانی فراہم کرنے پرآمادگی ظاہر کردی ہے۔