.

معرکہ موصل:عراقی فوج پہلی بار دریائے دجلہ کے کنارے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف جاری فیصلہ کن آپریشن میں عراق فوج نے اہم پیش قدمی کرتے ہوئے پہلی بار دریائے دجلہ کے ایک کنارے پر اپنے قدم مضبوط کر لیے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے نامہ نگار کے مطابق عراقی فوج داعش کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے پہلی بار دریائے دجلہ کے کنارے پہنچنے اور کئی اہم مقامات کو داعش سے آزاد کرانے میں کامیاب رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق عراقی فوج موصل میں دریائے دجلہ کے چھوتے پل کے قریب پہنچنے کے بعد الفرقان اور المزارع کے علاقوں کو داعش سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ عراقی فوج نے شمال مشرق میں الرفاق اور جنوب مشرق میں یارمجہ کے بعض اہم مقامات بھی داعش سے چھڑا لیے ہیں۔

داعش کے خلاف آپریشن میں سرگرم جوائنٹ فورسز کے ایک ذریعے نے بتایا کہ فوج دریائے دجلہ کے ایک کنارے تک پہنچنے کے بعد شہر کے بائیں جانب چوتھے پل پر اپنا قبضہ مضبوط بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج نے دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک یونٹ کو پل کے اطراف میں متعین کیا ہے جو کسی بھی وقت داعشی جنگجوؤں کی پیش قدمی کو روکنے کی پوزیشن میں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی فوج گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے موصل کو چھڑانے کے آپریشن کے دوران پہلی بار دریائے دجلہ کے کنارے پہنچنے میں کامیاب رہی ہے۔

ادھر عراق کی ایلیٹ فورس کے ترجمان صباح النعمان نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی فورسز نے موصل شہر میں دریائے جلہ پر بنے چوتھے پل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج نے موصل کے مشرق کی سمت میں اہم پیش قدمی کی ہے۔ عراقی فوج کے ایک سینیر عہدیدار جنرل عبدالامیر یارا اللہ نے بھی دریائے دجلہ کے مشرقی پل پر قبضے کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ داعش نے گذشتہ برس اکتوبرمیں موصل شہر میں داعش کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ عراقی فوج شہر کے مشرقی اور شمالی حصوں سے آگے بڑھ رہی ہے مگ شہر کا گنجان آباد اور مغربی حصہ اب بھی داعش کا مضبوط گڑھ ہے اور عراقی فوج کو مغربی موصل سے پیش قدمی میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

الانبار میں شہریوں کو درپیش مشکلات

ادھر عراق میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں خبردارکیا گیا ہے کہ الانبار گورنری میں ہزاروں کی تعداد میں محصور شہری سنگین مشکلات کا شکار ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عانہ، راوہ اور القائم شہروں اور داعش کے زیرقبضہ دوسرےمقامات پر شہیروں کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الانبار میں 30 ہزار سے زاید افراد کو خوراک، ادویات اور بنیادی نوعیت کی ضروریات کا شدید فقدان ہے۔ اس کے علاوہ یومیہ کی بنیاد پر شہری آبادی پر راکٹ حملے کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں شہری لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کے محاصرے کے نتیجے میں الانبار میں لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ شدید سردی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔