.

یمن: حوثی ملیشیاؤں نے 2.5 لاکھ بارودی سرنگیں بچھائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیاؤں نے مارچ 2015 میں متعدد صوبوں میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے تقریبا 2.5 لاکھ بارودی سرنگیں بچھائیں۔

ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یہ تخمینہ دسمبر 2016 تک بچھائی جانے والی سرنگوں کا ہے اور حقیقی تعداد یقینا اس سے زیادہ ہوگی کیوں کہ باغی کسی بھی علاقے کو خالی کرنے سے قبل وہاں بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز مواد ضرور نصب کر دیتے ہیں۔

یمن کی سرکاری فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے گزشتہ دو روز کے دوران ملک کے جنوب مشرقی صوبے شبوہ کے ضلعے بیحان میں 600 بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا۔ ان بارودی سرنگوں کو حوثیوں اور ان کی ہمنوا ملیشیاؤں نے بچھایا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق تقریبا ایک لاکھ بارودی سرنگیں عدن ، لحج اور الضالع کے صوبوں میں بچھائی گئیں جب کہ بقیہ تعداد مارب ، الجوف ، تعز ، البیضاء ، شبوہ اور حجہ کے صوبوں میں نصب کی گئیں۔

عرب اتحادی افواج نے اگست 2015 کے اواخر میں دس خصوصی انجینئرنگ ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ ان ٹیموں کو آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی ذمے داری سونپی گئی۔

سابقہ معلومات کے مطابق مذکورہ انجینئرنگ ٹیموں نے عدن اور لحج کے صوبوں میں 30 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا۔

نومبر 2016 کے اختتام پر یمن کی سرکاری فوج نے اعلان کیا کہ خصوصی انجینئرنگ ٹیمیں مارب صوبے کے مخلتف علاقوں میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے بچھائی گئی 36 ہزار بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

شہریوں کا جانی نقصان

یمنی فوج کے ایک انجینئرنگ بریگیڈ کی طبی ٹیم کے سربراہ عبداللہ فاران نے گزشتہ برس دسمبر میں اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ملیشیاؤں کی جانب سے شبوہ اور مارب صوبوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے نتیجے میں 100 شہری جاں بحق اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں اکثر افراد دائمی معذوری کا شکار ہو گئے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہویمن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ " تعز صوبے میں ملیشیاؤں کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگوں کے سبب 5 بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق اور 56 سے زیادہ زخمی ہوئے"۔

انجینئرنگ ٹیموں کی رپورٹوں کے مطابق باغی ملیشیائیں ٹینکوں اور بڑی فوجی گاڑیوں کے لیے مخصوص بارودی سرنگوں کو ایسی حالت میں بدل دیتے ہیں جس کے سبب افراد ، مویشی اور چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے روندے جانے کی صورت میں وہ دھماکے سے پھٹ جائیں۔