.

الجزائری خاتون رکن پارلیمنٹ کا قذافی کی شادی کی پیش کش کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ اور سابق میڈیا پرسن زہیۃ بن عروس نے ایک دل چسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لیبیا کے متوفی سربراہ معمر قذافی نے 90ء کی دہائی میں اُن کو شادی کی پیش کش کی تھی جس کو زہینۃ نے مسترد کر دیا تھا۔

الجزائر کے ایک نجی سیٹلائٹ چینل کے پروگرام میں بطور مہمان گفتگو کرتے ہوئے زہیۃ نے بتایا کہ 1995 میں جب وہ الجزائر ٹیلی وژن میں اینکر پرسن تھیں تو قذافی نے ایک وفد الجزائر بھیجا جس میں Libyan Women's Union کی رکن خواتین بھی شامل تھیں۔ ان خواتین نے الجزائر کے ایک سب سے بڑے ہوٹل " الاوراسی" میں زہیۃ نے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ قذافی انہیں بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اور انہوں نے زہیۃ کا رشتہ طلب کیا ہے۔

الجزائری رکن پارلیمنٹ کے مطابق وہ اس پیش کش سے بہت زیادہ ڈر گئی تھیں کیوں کہ یہ ایک ریاست کے سربراہ کی جانب سے تھی اور ساتھ ہی ان کو شدید حیرت بھی تھی۔ زہیۃ نے بتایا کہ انہوں نے لیبیائی خواتین کے مطالبے کے جواب کو مسترد کر دیا اور ہمیشہ جواب دینے سے دور بھاگتی رہیں۔

زہیۃ بن عروس نے واضح کیا کہ ہر مرتبہ ان کا جواب صرف "ان شاء الله" ہوتا.. اس لیے کہ شادی کا مطالبہ کرنے والا شخص ایک ریاست کا سربراہ تھا اور اس کی بہت سی بیگمات تھیں۔

زہیۃ بن عروس کا شمار اُن چند خواتین میزبانوں میں ہوتا ہے جو90ء کی دہائی میں ایسے وقت میں بھی پابندی کے ساتھ اسکرین پر جلوہ گر ہوتی رہیں جب اکثر چہرے شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے خوف سے روپوش ہو گئے تھے۔