.

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں،آستانہ مذاکرات کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ

روس اور ترکی کا جلد اہم اجلاس متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ 11 روز سے جاری عارضی جنگ بندی ہر آنے والے لمحے زیادہ نازک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث نہ صرف سیز فائرخطرے میں پڑ چکی ہے بلکہ روس اور ترکی کی مساعی سے آستانہ میں ہونے والے 23 جنوری کے مذاکرات بھی کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق 30 دسمبر 2016ء کو ترکی اور روس کی کوششوں سے شام میں جو جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، وہ ایک بار پھر بم باری کی نذر ہوگیا ہے۔ دمشق کے نواحی علاقے وادی بردی میں شامی طیاروں کی مسلسل بمباری کے بعد شامی اپوزیشن نے آستانہ مذاکرات بھی معطل کردیے ہیں۔

جنگ بندی کے اعلان کو ڈیڑھ ہفتہ گزر جانے کے باوجود شامی فوج نے ایک دن کے لیے بھی اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس کا واضح ثبوت وادی بردی میں اسدی فوج کی مسلسل بمباری ہے۔

شامی فوج کی ننگی جارحیت کے جواب میں اپوزیشن کی جیش الحر نے بھی جوابی حملوں پرانتباہ کیا ہے۔ جیش الحر کی طرف سے ترکی کو مطلع کیا گیا ہے کہ اسدی فوج کی بمباری کے جاری رہتے ہوئے آستانہ میں مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

روس اور ترکی کا اہم اجلاس

درایں اثناء شام میں جاری کشیدگی پر قابو پانے اور جنگ بندی پرعمل درآمد کے حوالے سے روس اور ترکی کا اہم اجلاس کسی بھی وقت منعقد ہوسکتا ہے۔

شام میں وادی بردی میں اسدی فوج کی مسلسل بمباری کے پر روس اور ترکی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مسلسل بمباری سے امن وامان کی مساعی بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔

العربیہ کو اپنے ذریعے سے اطلاع ملی ہے کہ شامی اپوزیشن کے نمائندوں کی موجودگی میں روس اور ترکی کے مندوبین کا اجلاس جلد بلایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی بردی میں اقوام متحدہ کے مندوبین کی رسائی یقینی بنانے اور دمشق کو پانی کی سپلائی کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کو الفیجہ میں داخل ہونے اور پانی کی پائپ لائنیں صاف کرنے کے لیے ٹیموں کو اجازت دینے پر غور کیا جائے گا۔