.

رفسنجانی کے جنازے پر’گرین موومنٹ‘ کے خلاف کریک ڈاؤن

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے 'قتل' کے الزامات پر نئی بحث شروع ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے بعد گذشتہ روز تہران میں ان کی تدفین کے موقع پر پولیس نے ’سبز انقلاب تحریک‘ کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں دسیوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہاشمی رفسنجانی کے جنازے میں شریک ہزاروں افراد نےگھروں میں جبری طور پرنظر بند کیے گئے اصلاح پسند رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے نظر بند رہ نماؤں کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور بڑی تعداد میں شہریوں کو اصلاح پسندوں کی حمایت میں نعرے بازی پر گرفتار کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ہاشمی رفسنجانی کے جنازے کے شرکاء کو اصلاح پسندوں کی حمایت میں نعرہ زن دکھایا گیا ہے۔ جنازے میں شریک بڑی تعداد میں شہری سابق صدر محمد خاتمی کے حامی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایرانی حکام نے محمد خاتمی کو رفسنجانی کے جنازے میں شرکت سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں ہاشمی رفسنجانی کو ولایت فقیہ کے بانی آیت اللہ خمینی کی قبر کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ فوٹیجز میں نوجوانوں کی گرفتاریاں بھی دکھائی گئی ہیں، اصلاح پسندوں کی حمایت میں نعرے لگانے والے شہریوں کو گاڑیاں میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی کے خصوصی مسلح دستے جنازے کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

رفسنجانی کی موت پر نیا تنازع

اصلاح پسند رہ نما اور سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی اچانک وفات پر ایران کے مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث بھی جاری ہے۔ بعض افراد نے الزام عاید کیا ہے کہ رفسنجانی کو ’حیاتیاتی‘ یا کیمیائی عمل کے ذریعے ہلاک کیا گیا ہے۔

ایران میں گرین موومنٹ کے مقرب اصلاح پسند سماجی کارکن روح اللہ زم نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں لکھا کہ رفسنجانی کے دو مقربین نے تصدیق کی ہے کہ رفسنجانی کو قاتلانہ حملے میں مارا گیا ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

ایران میں سرگرم ڈیموکریٹک فرنٹ نامی ایک اپوزیشن گروپ نےبھی ایرانی رجیم پراپنے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے رفسنجانی کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

جنازے میں خامنہ ای کی شرکت

ایران میں اصلاح پسند حلقوں کی طرف سے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی وفات پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شرکت پربھی تبصرے کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے رفسنجانی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور انہیں’حجۃ الاسلام‘ کا لقب دیا۔ یہ لقب ایران کے مذہبی حلقوں میں ’آیت اللہ‘ کے لقب سے درجے میں کم تر خیال کیا جاتا ہے۔ رفسنجانی کو ان کی زندگی میں بھی آیت اللہ کے بجائے حجۃ الاسلام ہی کا لقب دیا جاتا رہا ہے۔

رفسنجانی کے جنازے کی کوریج کرنے والی ایک ویب سائیٹ کے مطابق ماضی میں جب کوئی اہم شخصیت فوت ہوتی تو سپریم لیڈر [خامنہ ای] "اللهم إنا لا نعلم منه إلا خيراً"[پروردگا ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے] کے الفاظ ادا کرتے تھے مگر رفسنجانی کے جنازے میں انہوں نے صرف اتنا کہا یا اللہ اسے معاف کر دے۔

1