.

لبنان نے عرب مصلحت کے خلاف کوئی کام نہیں کیا:میشیل عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون نے باور کرایا ہے کہ ان کے ملک نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس سے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی مصلحتوں کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہے جس نے بطور صدر منتخب ہونے کے بعد اُنہیں دورے کی دعوت دی۔

لبنانی صدر نے یہ بات "العربیہ" نیوز چینل کے پروگرام "ترکی الدخیل کے ساتھ" میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

میشیل عون کے مطابق لبنانی ریاست اندرون ملک استعمال میں آنے والے کسی بھی اسلحے کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان کے اندر مزاحمت کی کوئی حیثیت نہیں اس لیے کہ مزاحمت کا کردار مشرق وسطی کے بحران کا ایک حصہ بن چکا ہے جس میں امریکی ، روسی اور ایرانی داخل ہو چکے ہیں۔

میشیل عون اکتوبر میں صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے میں پیر کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے تھے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کے روز قصرِ یمامہ میں صدر عون کے ساتھ سرکاری طور پر بات چیت کا انعقاد کیا۔ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی تعلقات ، مختلف شعبوں میں ان تعلقات کی مضبوطی اور عرب اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا۔