.

بشار حکومت اور ایرانی ملیشیاؤں کے ہاتھوں فائر بندی کی خلاف ورزیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں فائر بندی لاگو ہونے کے آغاز کے 11 روز بعد بشار حکومت اور ایرانی ملیشیاؤں کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیوں کی تعداد 399 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات حزبِ اختلاف کے اتحاد National Coalition of Syrian Revolution and Opposition Forces کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی۔

بیان کے مطابق ان خلاف ورزیوں کا زور حلب کے جنوبی نواح ، دمشق کے نواحی علاقے وادی بردی اور حماہ اور درعا کے نواحی علاقوں میں رہا۔ اس دوران تقریبا 271 شہری جاں بحق ہوئے جن میں 25 عورتیں اور 34 بچے شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ علاقے شامل نہیں ہیں۔

بیان میں سلامتی کونسل اور فائر بندی کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان حملوں کو فوری طور پر رکوائیں اور اس کے مرتکب عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔

ادھر ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں بدھ کے روز شامی اپوزیشن کے مختلف اجلاسوں میں فائربندی اور آستانہ میں آئندہ بات چیت کو زیر بحث لایا جائے گا جب کہ ترکی اور روسی حکام کے درمیان اجلاس میں توجہ فائر بندی کو بچانے اور اس کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو کو سزا دینے پر مرکوز ہو گی۔

دوسری جانب روس نے جس نے شامی حکومت کی جانب سے فائر بندی کی ضمانت دی تھی ، اپنی مسلح افواج کے سربراہ کی زبانی دھمکی دی ہے کہ "دمشق کے نواح میں دہشت گردوں" کا قلع قمع کیا جائے گا۔ روسی اعلی اہل کار کے مطابق حالیہ عرصے میں لاذقیہ صوبے سے اپوزیشن جنگجوؤں کو نکالے جانے کے علاوہ دمشق کو ملک کے شمالی علاقوں سے جوڑنے والے مرکزی راستے کو بھی کھول دیا گیا ہے۔