.

یمنی فوج ساحلی شہر المخا پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج عرب اتحادی طیاروں کی معاونت کے ساتھ دھیرے دھیرے تعز صوبے کے مغرب میں واقع ساحلی شہر المخا کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یمنی فوج نے العمری کے علاقے میں تزویراتی اہمیت کے حامل تمام بلند مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد شدید لڑائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس دورن درجنوں باغیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جب کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح کے زیر انتظام ریپبلکن گارڈز کے متعدد افسران کو قیدی بنا لیا گیا۔

اس سے قبل عرب اتحادی طیاروں نے ذوباب اور المخا کے ضلعوں میں باغی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور ساز و سامان پر فضائی حملے شدید کر دیے۔ اس دوران العمری کیمپ کے شمال میں اور دیگر علاقوں میں عسکری گاڑیاں اور راکٹ لانچروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

ادھر الجوف میں میدانی ذرائع نے بتایا ہے کہ المصلوب اور الغیل کے علاقوں میں سرکاری فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں کو توپوں کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد باغی ملیشیاؤں کے ساتھ گھمسان کی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ الجوف کے گورنر شیخ العکیمی کے مطابق اس وقت صوبے کا 80% سے زیادہ رقبہ یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے کنٹرول میں ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحد پر سعودی افواج کی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی ٹولیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی میں ایک باغیوں کی ایک عسکری گاڑی تباہ اور اس میں سوار افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے جب کہ دیگر گروپ فوری طور پر علاقے سے پیچھے چلے گئے۔