.

اسرائیل : فلسطینیوں کو گھروں سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حسونہ مخلوف کا تعلق فلسطینی قصبے قلنسوہ سے ہے۔ یہ قصبہ 1948ء میں اسرائیل کی جانب سے قبضے میں لی جانے والی فلسطینی اراضی میں شامل تھا اور اب یہ قابض اسرائیلی حکام کے ہی زیرِ انتظام ہے۔ اسرائیلی حکام نے حال ہی میں حسونہ اور اس کے پڑوسیوں کے 3 گھروں کو منہدم کر دیا جس کے بعد حسونہ اپنے گھر کے ملبے کے بیچ حسرت کی تصویر بنا نظر آتا ہے۔

دیگر منہدم گھروں میں سے ایک گھر حسونہ کے بھتیجے عامر کو اپریل میں شادی کے بعد استعمال میں لانا تھا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے عامر نے بتایا کہ گھر گرائے جانے کے نتیجے میں اس کی زندگی برباد ہو گئی اور اب اس کی شادی بھی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔

آنسوؤں میں ڈوبے ان متاثرہ فلسطینیوں پر مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیلی پولیس ان لوگوں سے گھروں کے منہدم کیے جانے پر ہونے والے اخراجات کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے جو تقریبا دس لاکھ اسرائیلی شیکل یعنی 3.5 لاکھ ڈالر کے مساوی ہے۔

اسرائیلی حکام نے ایک دن میں قلنسوہ قصبے میں 11 گھروں کو منہدم کر ڈالا اور گرین لائن کے اندر فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کے حوالے سے انتباہات جاری کیے۔ علاقے کے فلسطینیوں کے نزدیک یہ پالیسی براہ راست طور پر مغربی کنارے میں عامونا یہودی بستی کو خالی کرانے سے مربوط ہے۔ اس بستی کے یہودیوں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہدام کے قوانین لاگو کیے جائیں اور ساتھ ہی عربوں کا انخلاء عمل میں لایا جائے۔

ادھر سیاسی کارکن عمر سكسک کا کہنا ہے کہ " اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے سیاسی اسکینڈلوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اس پر بدعنوانی کا شبہہ ہے لہذا وہ عربوں کے گھروں کو منہدم کر کے دائیں بازو کے حلقوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کا خواہش مند ہے۔ دوسری جانب وہ یہودی بستیوں کے آباد کاروں کو بھی راضی کرنا چاہتا ہے"۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان گھروں کو منہدم کر رہا ہے جو خلافِ قانون بنائے گئے ہیں۔

گزستہ سال 2016 میں مقبوضہ بیت المقدس میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران انہدام کی سب سے بلند شرح دیکھنے میں آئی۔ رواں سال 2017 ابتدائی دنوں میں ہی 6 گھروں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔