.

دمشق کے قریب فوجی اڈے پرحملہ اسرائیل نے کیا:شام کا دعویٰ

اسد رجیم کی صہیونی ریاست کو سنگین نتائج کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے المزہ میں قائم ایک فوجی اڈے میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شامی حکومت نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ المزہ فوجی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ شمالی اسرائیل کی طرف سے کیا گیا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق شام کے سرکاری ٹی وی پرنشرکی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ المزہ فوجی اڈے پرمیزائل حملہ شمالی اسرائیل سے داغے گئے میزائل سے کیا گیا۔ رپورٹ میں حکومتی ذریعے کےحوالے تل ابیب کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ المزہ فوجی اڈے پرمیزائل حملے کا اسرائیل کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر شام میں سماجی کارکنوں کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ المزہ فوجی اڈے میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں شامی فوج کے متعدد سینیر افسر ہلاک ہوگئے ہیں۔

المزہ فوجی اڈے پر اسرائیل کی جانب سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے تاہم اس حملے کے اہداف اور محرکات واضح نہیں ہوسکے ہیں۔

دسمبر 2016ء میں زمین سے زمین پرمار کرنے والے ایک میزائل حملے سے المزہ فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک ماہ قبل میزائل حملے کا الزام بھی شامی حکومت نے اسرائیل پرعاید کیا تھا۔ دمشق حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ وادی گولان سے دمشق کے قریب المزہ فوجی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔

المزہ فوجی اڈا دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع ہے جو تزویراتی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل فوجی اڈہ خیال کیا جاتا ہے۔ شامی فوج اور ری پبلیکن گارڈز اس فوجی اڈے کو دمشق کے اطراف میں اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

المزہ فوجی اڈے پرحملے سے چندے قبل دمشق کے قریب کفر سوسہ کے مقام پر ایک خود کش حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دو خود کش بمباروں نے کفر سوسہ میں ایک اسپورٹس کلب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ خود کش بمباروں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے ان کا تعاقب کیا مگر خود کش بمبار خود کو دھماکے سے اڑانے میں کامیاب رہے۔