.

عراق میں ایرانی سفیر مقرر ہونے والا ایرج مسجدی کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم " قُدس فورس" کے کمانڈر کے مشیر اور بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کی فہرست میں شامل بریگیڈیئر جنرل ایرج ساجدی کو عراق میں سفیر بنائے جانے کے بعد اس انتہائی حساس منصب پر مذکورہ جنرل کے تقرر اور ایرانی رسوخ کے تحت عراق کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بغداد میں ایرانی سفارت خانہ پاسداران انقلاب کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد سے بغداد میں ایران کے تمام سفیروں کا تعلق پاسداران انقلاب سے تھا۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تہران نے اس عسکری سطح کی شخصیت کو عراق میں اپنے سفیر کے طور پر چُنا ہے۔

ایرج مسجدی ہے کون ؟

ایرج مسجدی کے بارے میں ایرانی اور دیگر ذرائع ابلاغ میں زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ " قدس فورس" کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا مشیر اعلی ہے۔ قدس فورس درحقیقت ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کا ذمے دار ونگ ہے۔ تاہم "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مسجدی پاسداران انقلاب میں عراق سے متعلق امور کا ذمے دار ہے۔ اس نے عراق میں تہران نواز شیعہ ملیشیا "پاپولر موبیلائزیشن" کی تاسیس میں بھی نگراں کا کردار ادا کیا۔

اس سلسلے میں ایرانی اپوزیشن کی " قومی کونسل برائے ایرانی مزاحمت" کے ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ مسجدی پاسداران انقلاب کے سینئر ترین رہ نماؤں میں سے ہے۔ وہ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کے دور (2006 – 2014) میں ایرانی پاسداران انقلاب کے "رمضان" نامی صدر دفتر کا سربراہ بھی رہا۔ 1983 میں قائم کیا جانے والا یہ دفتر ایران سے باہر پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کارروائیاں سر انجام دیتا ہے اور گوریلا جنگ اور سڑکوں پر لڑائی کے لیے مخصوص ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو حاصل معلومات کے مطابق ایرج مسجدی اس وقت پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی قیادت کی نگرانی کر رہا ہے۔ موبیلائزیشن کے رہ نما ہادی العامری اور انجیںئر ابو مہدی براہ راست مسجدی سے احکامات وصول کرتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے مسجدی کے ساتھ اُس وقت سے گہرے تعلقات ہیں جب وہ ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں شریک تھے۔

قومی کونسل برائے ایرانی مزاحمت کے مطابق مسجدی 2014 سے عراق میں فیلق القدس کے صدر دفتر کے نگراں کے طور پر قیام پذیر رہا۔ وہ عراق میں ایرانی پالیسیوں پر عمل درامد کے واسطے اعلی ترین اہل کار ہے۔ اس کے علاوہ مسجدی ایران کی ان دہشت گرد کارروائیوں کی بھی نگرانی کرتا ہے جو تہران عراق میں اپنے رسوخ کی توسیع یا اپنے مخاصمین کے خاتمے کے واسطے کرتا ہے۔

ایرج مسجدی کو امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے یعنی 20 جنوری سے تقریبا ایک ہفتہ قبل عراق میں ایرانی سفیر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس امر کی مخالفت سامنے نہ آئے کہ دہشت گردی سے متعلق امریکی فہرست میں شامل شخصیت کو بغداد میں تہران کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مسجدی کے تقرر پر اعتراض کرے۔ اس لیے نہیں کہ اس کا تعلق دہشت گرد فورس سے ہے بلکہ اس لیے کہ مسجدی اُن کارروائیوں کی نگرانی کیا کرتا تھا جو پاسداران انقلاب کی فورسز اور تہران کے زیر انتظام عراقی ملیشیائیں گزشتہ برسوں کے دوران امریکی افواج اور بین الاقوامی اتحادی فورسز کے خلاف کرتی تھیں۔