.

ایران شام کا آبادیاتی نقشہ کیسے تبدیل کررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رجیم شام میں اپنی کٹھ پتلی بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے تمام ترعسکری، مادی اور معنوی وسائل ہی استعمال نہیں کررہا ہے بلکہ شام میں اہل تشیع کی آباد کاری کی سازشوں سے پورے ملک میں آبادیاتی نقشہ ہی تبدیل کررہا ہے۔

برطانوی اخبار’گارجین‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں شام میں آبادیاتی تبدیلی کی ایرانی سازشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں جیش الحر، لبنانی حکام اور احرام الشام نامی عسکری گروپ کے کارکنان کے بیانات کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ ایران شام کے مخصوص علاقوں میں اہل تشیع کی آباد کاری میں سرگرم عمل ہے۔

شام میں آبادیاتی تبدیلی کی یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری جانب حال ہی میں صدر بشارالاسد نے بھی ایک بیان میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک میں موجودہ آبادیاتی نقشہ ماضی کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔

شام میں اہل تشیع مسلک کے فروغ کے لیے جو نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس میں اہل سنت مسلک کی آبادی کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا، ان کے دفاتر کو نذرآتش کرنا، ان کی اراضی اور دیگر جائیدادوں پر غاصبانہ قبضہ کرکے ان سے من پسند افراد کو نوازنا اور اہل تشیع کے علاقوں میں شیعہ آبادی کو بڑھانا شامل ہے۔

آبادیاتی تبدیلی کی ایرانی سازشوں سے قریبا شام کے تمام شہر متاثر ہوئے ہیں مگر حمص اور حلب جیسے بڑے شہر خاص طور پرایرانی سازشوں کے نشانے پرہیں۔ طویل خانہ جنگی کے بعد جب حمص کے باشندے اپنے گھروں کو لوٹے توانہیں اسد رجیم کے گماشتوں نے بتایا کہ وہ لوگ اپنی اراضی اور مکانوں پر تصرف کا حق نہیں رکھتے۔

شام میں خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ آبادیاتی نقشہ تبدیل کرنے کی ایرانی سازشوں کا اصل مقصد لبنان کی سرحد کے ساتھ ایک ایسی جغرافیائی پٹی تشکیل دینا ہے جس میں اکثریت اہل تشیع ملک کے لوگوں کی ہو اور اس علاقے پرایران کا اثرو نفوذ قائم رہے۔

گارجین کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے استنبول میں احرار الشام گروپ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ادلب کے شیعہ اکثریتی علاقوں کفریا او الفوعہ کی شعیہ آبادی کو سنی علاقوں مضایا اور الزبدانی کے ساتھ آپس میں تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا تھا۔

اسی طرح دمشق کے نواحی علاقے داریا سے 300 شیعہ خاندانوں کو دمشق منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جب کہ اس علاقے سے سات سو مسلح افراد کو ادلب بے دخل کیا گیا۔ دمشق کے نواحی علاقے سیدہ زینب کوسنہ 2012ء سے لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے جنگجوؤں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی بڑی تعداد میں شیعہ آبادی میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ جیش الحر کے مطابق اسدی فوج نے دمشق میں قائم جامع مسجد الاموی کو ایرانیوں کا خصوصی زون بنا رکھا ہے حالانکہ یہاں کی اکثریت آبادی اہل سنت پرمشتمل ہے۔