.

شامی فوج اور داعش میں لڑائی ، 80 سے زیادہ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان ہفتے کے روز سے جاری لڑائی میں بیاسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دیرالزورشہر میں داعش نے حکومت کی عمل داری والے علاقے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کی شامی فوج سے لڑائی چھڑ گئی۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ لڑائی میں فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا کی 28 ہلاکتیں ہوئی ہیں ،14 عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ داعش کے کم سے کم 40 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔گذشتہ ایک سال کے دوران میں شہر میں لڑائی میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کا کہنا ہے کہ فوج نے داعش کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں اور اس نے دسیوں جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔ واضح رہے کہ داعش کا 2015ء سے دیر الزور کے بیشتر حصوں اور اس کے نواحی علاقے پر قبضہ ہے جبکہ حکومت نے شہر میں ہوائی اڈے اور اس کے نواحی علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

امریکا کے حمایت یافتہ کرد اور عرب ملیشیا پر اتحاد اور ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں داعش کو شام کے شمالی علاقوں سے نکال باہر کیا ہے اور اب ان کا ملک کے مشرق میں واقع وادی فرات اور مشرقی صحرا پر قبضہ برقرار رہ گیا ہے۔

گذشتہ ماہ داعش نے دیرالزور سے جنوب مغرب میں 185 کلومیٹر دور واقع تاریخی شہر تدمر پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے اسدی فوج کو نکال باہر کیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں یہ ان کی ایک بڑی جنگی فتح ہے۔