.

موصل میں جامع الکبیر اور دجلہ کے پُلوں پرعراقی فوج کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل میں داعش کے خلاف تازہ پیش قدمی میں شہر کی ایک بڑی جامع مسجد اور دریائے دجلہ کے پلوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی فورسز کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے موصل میں داعش کے خلاف تازہ لڑائی کے دوران دریائے دجلہ پربنے پانچ پلوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے جس کے بعد شہر کے مشرقی حصے کا کنٹرول عراقی فوج کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ اس کے بعد فوج مغربی موصل کی طرف پیش قدمی کی تیاری کررہی ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے داعش کے خلاف جنگ کے دوران مشرقی موصل میں انجینیرنگ، کلچرل، کیبنٹ کالونی اور جامع موصل کے مد مقابل کئی اہم کالونیوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ النبی یونس، الجزائر کالونی، النعمانیہ، العطشانہ، السویس اور بائیں ساحلی پٹی کے علاقوں سنحاریب، الزراعہ اور جامع مسجد الکبیر جسے جامع صدام کے نام سے بھی یاد کیا جاتا کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

موصل کے شمالی محاذ سے بھی عراقی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے العربی کالونی اور کینیڈین تزویراتی تنصیبات پر قبضہ کرلیا ہے۔ قبل ازیں عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان صباح نعمان نے بتایا تھا کہ مشرقی موصل کا بیشتر علاقہ فوج کے کنٹرول میں ہے اور داعش کو چند ایک کالونیوں میں محصور کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی موصل کا 90 فی صد علاقہ داعش سے چھڑالیا گیا ہے۔

دریں اثناء منگل کے روز عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراقی فورسز مشرقی موصل میں داعش کے خلاف کامیاب لڑائی کے بعد اب مغربی موصل میں داعش مخالف جنگ کی تیاری کررہی ہے۔