یمن:اسکول فوجی بیرکوں میں تبدیل،25 لاکھ بچے تعلیم سے محروم

یمنی باغیوں کی تعلیم دشمنی کی زندہ مثال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے منتخب آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے اور کم عمر بچوں کو جنگ کا ایندھن بنائے جانے کے جرائم کے بعد ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یمنی ملیشیا نے ملک کے بیشتر شہروں میں قائم اسکولوں کو اپنی فوجی بیرکوں اور فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کررکھا ہے جس کے نتیجے میں 25 لاکھ یمنی بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی باغیوں کی سازشوں پرمبنی رپورٹ مرکز مطالعہ برائے تعلیمی ابلاغ کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پندرہ لاکھ یمنی بچے مسلسل دوسرے سال تعلیم سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یمنی باغیوں کی کارستانیوں، حملوں اور لڑائی کے نتیجے میں 3500 اسکول بند یا تباہ ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یمن میں 1495 اسکولوں میں زیرتعلیم 10 لاکھ سے زاید بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ باغیوں کی جانب سے اسکولوں کو فوجی کیمپوں یا عارضی پناہ گزین کیمپوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمن میں 8 لاکھ بچے اپنے والدین اور خاندانوں کے ہمراہ گھر بار چھوڑنے اور متبادل اسکولوں میں جانے پرمجبور ہوئے جہاں انہیں معمولی درجے کی تعلیمی سہولتیں بھی میسرنہیں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی کارستانیوں کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کے اعتبار سےملک کے تمام شہر شامل ہیں مگر تعز گورنری سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ تعز میں 400 اسکول بند کیے جا چکے ہیں اور 2 لاکھ بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اسکول جانے کی عمر کے دو ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ نے یمنی باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو اپنی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سےگریز کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں