.

زرقاوی کا بہنوئی "ايران" سے "شام" تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے امریکی صدر باراک اوباما جن کی مدت صدارت اپنے اختتام کی دہلیر پر پہنچ چکی ہے.. ان کی زبان پر "خراسان گروپ" کا نام آیا ، اُس وقت سے میڈیا اور شدت پسند تنظیموں کے امور کے تجزیہ کاروں نے بھی القاعدہ تنظیم کی کوکھ سے جنم لینے والے اس گروپ پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ "خراسان گروپ" کے پیچھے کون ہے ، بنیاد پرست تنظیموں کے نقشے میں اس کا کیا مقام ہے اور اس کی قیادت کی ذمے داری کس کو سونپی گئی ہے ؟

شدت پسند جماعتوں کے زبان کے مطابق خراسان ایک ایسا علاقہ ہے جس کی جغرافیائی حدود غیر متعین ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے امور کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان ، افغانستان اور ایران پر مشتمل ہے۔

"القاعدہ خراسان" کا ظھور شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کے آمد کے ساتھ ہوا تھا۔ ان میں الزرقاوی گروپ نمایاں ترین تھا اور اس کے علاوہ اردن ، مصر ، شام ، افغانستان ، ترکی اور دیگر ممالک کی شہریت کے حامل عناصر بھی شامل تھے۔ یہ لوگ افغانستان اور عراق میں لڑائی میں حصہ لے چکے تھے۔ ان میں متعدد افراد "جبہۃ النصرہ" جو اب "فتح الشام" کے نام سے معروف ہے اس میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں الجولانی نے اپنی تنظیم یعنی جبہۃ کو انتظامی طور پر القاعدہ سے علاحدہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

العربيہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں القاعدہ تنظیم (جبہۃ النصرہ) کا سربراہ اور عبداللہ عزام بریگیڈز کا امیر ماجد الماجد شام سے واپسی پر لبنان میں 26 دسمبر 2013 کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں پراسرار حالات میں 4 جنوری 2014 کو لبنانی عسکری ہسپتال میں فوت ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق ماجد الماجد نے ایک دوسرے کمانڈر اور اپنے دوست صالح القرعاوی کی جگہ سنبھالی تھی جو عبداللہ عزام بریگیڈز کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ دھماکا خیز مواد اور آلات کی تیاری کا ماہر تھا۔ القرعاوی کے زخمی ہوجانے کے بعد اسے منصب سے سبک دوش کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں کئی سال ایران کی تحویل میں رہنے کے بعد اس نے خود کو سعودی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

ماجد الماجد نے ابو یحیی اللیبی نامی کمانڈر کو بھیجے گئے ایک خط میں شام میں مصروف عمل جماعتوں کے لیے حکمت عملی سے متعلق نکات واضح کیے تھے۔ ان ہدایات کے مطابق روایتی جہادی تنظیموں کے ناموں سے نمودار ہونے کے بجائے شام کی جیشِ حُر سے مربوط بریگیڈز کی شکل میں ضم ہونے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔ سوشل میڈیا پر ہر گروپ کا اپنا علاحدہ صفحہ ہو جس پر اس کی سرگرمیوں کی تفصیلات ظاہر کی جائیں۔ زمینی طور پر کام کرنے والی تنظیمیں مثلا الاخوان المسلمون اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے ساتھ رابطے استوار کیے جائیں اور ان میں سرائیت کی حتی الامکان کوشش کی جائے۔

القاعدہ کا خراسان گروپ کیسے بنا ؟

القاعدہ کے ذیلی "خراسان گروپ" نے نہ صرف عالمی برادری اور امریکیوں کو تشویش میں مبتلا کیا بلکہ "داعش" تنظیم کو بھی مشتعل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

داعش تنظیم کے اندر پائی جانے والی تشویش کا انکشاف 2015 میں تنظیم کے ایک سرکاری جریدے "دابق" میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ہوا۔ اس کا عنوان "القاعدہ تنظیم وزیرستان میں.. اندر کی گواہی" تھا۔ یہ مضمون القاعدہ تنظیم کے ایک سابق کمانڈر ابو جریر الشمالی نے لکھا جو بعد میں داعش میں شامل ہو گیا۔ اس نے 7 برس ایران اور 3 برس پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں گزارے۔ ابو جریر کی القاعدہ تنظیم کے مقتول کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

زرقاوی گروپ کے نام سے معروف جماعت کے ارکان کو ایران میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ 2015 میں ایران اور القاعدہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت القاعدہ کے زرقاوی گروپ کے 5 کمانڈروں کو ایرانی سفارت کار نور احمد نیک بخت کے بدلے رہا کیا گیا۔ نیک بخت کو جولائی 2013 میں القاعدہ نے یمن کے درالحکومت میں اغوا کر لیا تھا۔

رہا ہونے والے پانچ کمانڈر یہ تھے۔ پہلا ابو الخير المصری (احمد حسن ابو الخير المصری).. اس کا اصلی نام عبدالله محمد رجب ہے۔ وہ القاعدہ تنظیم میں خارجہ تعلقات کا ذمے دار ہے۔ وہ جبہۃ فتح الشام کی تشکیل کے اعلان کے دوران الجولانی کے ہم راہ ظاہر ہوا۔ وہ 2005 میں امریکی وزارت خزانہ جانب سے جاری دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔ 2003 میں ایران کے شہر شیراز میں گرفتار کیا گیا اور دو برس ایرانی انٹیلی جنس کی عمارت میں زیر حراست رہا۔

دسرا بو محمد المصری جو "ابو محمد الزيات" کے نام سے بھی معروف ہے۔ مصری فوج کا سابق افسر جس کا نام 2003 میں ریاض میں ہونے والے حملوں کے ساتھ بھی جوڑا گیا۔ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے احکامات جنوبی ایران میں موجود القاعدہ رہ نماؤں کی جانب سے آئے جو افغانستان سے بھاگ کر ایران آ گئے تھے۔

رہائی پانے والوں میں سیف العدل بھی شامل تھا جو ایک عسکری کمانڈر ، تنظیم کا تزویراتی منصوبہ ساز اور ایمن الظواہری کا حالیہ نائب ہے۔

ان تین افراد کے علاوہ اردن سے تعلق رکھنے والے دو اہم کمانڈر ساری شہاب اور خالد العاروری بھی رہا کیے گئے تھے۔ العاروری القاعدہ کے مقتول کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی کا بہنوئی اور دست راس بھی تھا۔

زرقاوی کا بہنوئی ایران سے شام

العاروری عُرف " ابو القاسم" 2015 میں ایران سے شام چلا گیا تاکہ "لاذقیہ کے نواح" میں اردنی اور مصری جنگجوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ ٹھہر جائے جو خراسان گروپ میں شامل تھا۔ اردن کے معروف شدت پسند سلفی رہ نما ابو محمد المقدسی کی جانب سے بالواسطہ طور پر "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ملنے والی معلومات کے مطابق " ابو مصعب زرقاوی کا بہنوئی خالد العاروری (ابو القاسم).. القاعدہ تنظیم اور جبہۃ النصرہ کے درمیان رابطے کی کمیٹی میں شامل کر دیا گیا تھا۔ ہمیں اس کمیٹی کے داخلی منصبوں اور اس کے ارکان کی تعداد کے بارے میں معلوم نہیں"۔

عاروری اور زرقاوی کے درمیان تعارف ؟

خالد العاروری اور ابو مصعب الزرقاوی کے درمیان دوستی کا آغاز اردن کے شہر زرقا کی ایک مسجد سے ہوا جہاں یہ دونوں پابندی سے نماز کی ادائیگی کے لیے آتے تھے۔ جس زمانے میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو عاروری اُس وقت سرگرم بنیاد پرست گروپوں کے ساتھ جُڑ گیا۔

عاروری نے زرقاوی کے ساتھ مل کر اردن میں "جماعۃ التوحيد" نامی تنظیم بنائی۔ بعد ازاں 29 مارچ 1994 کو اردنی حکام نے دونوں کو گرفتارکر لیا۔

دونوں نے پانچ برس ساتھ جیل میں گزارے جس کے بعد 1999 میں شاہ عبداللہ دوم کے اقتدار سنبھالنے پر عام معافی کے اعلان کے سبب دونوں رہا ہو گئے۔

رہائی کے فوری بعد رزقاوی نے اپنے ساتھی عاروری کے ہم راہ پھر سے افغانستان لوٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ساتھ دونوں کا تیسرا ساتھی ابو عبيدہ " عبدالہادی ڈگلس" اور زرقاوی کے خاندان سمیت دیگر 42 افراد بھی شامل تھے۔

ایران کی سرحد کے نزدیک افغان علاقے ہِرات کے کیمپ میں زرقاوی نے عاروری کو اپنی ایک بہن کا رشتہ پیش کیا۔ عاروری نے جو اس وقت نوجوان تھا زرقاوی کی بہن سے شادی کی تجویز قبول کر لی اور اس طرح وہ زرقاوی کا بہنوئی بن گیا۔

ہرات کا عسکری کیمپ اور ایرانی پاسداران انقلاب

زرقاوی کے افغانستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد ہی سیف العدل نے القاعدہ تنظیم کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز سے زرقاوی کو آگاہ کر دیا۔ تجویز میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی مغربی سرحد پر ایران سے ملحقہ علاقے میں زرقاوی کے لیے ایک عسکری کیمپ قائم کیا جائے۔ کیمپ زرقاوی کے زیر نگرانی روزانہ کی بنیاد پر تربیت دی جائے گی اور یہاں اردن ، فلسطین ، شام ، لبنان ، عراق اور ترکی سے تعلق رکھنے والے افراد کا استقبال کیا جائے گا۔ سیف العدل کے مطابق پاکستانی حکام کی جانب سے اقدامات سخت کر دیے جانے کے بعد عرب اور دیگر عناصر کا پاکستان کے راستے افغانستان پہنچنا بہت مشکل ہو گیا لہذا پھر القاعدہ کے لوگ ترکی سے ایران اور پھر افغانستان کا روٹ بآسانی استعمال کرنے لگے۔

تکفیری جماعتوں کے امور کے محقق حسن ابو ہنیہ کے مطابق ابو مصعب زرقاوی نے ہرات کے کیمپ میں دو مرتبہ ایرانی پاسداران انقلاب کی شخصیات سے ملاقات کی اور اس دوران مشترکہ دشمن امریکا اور عرب حکومتی نظاموں کے سلسلے میں تبادلہ خیال ہوا اور اختلافات کے باوجود ممکنہ اتحاد کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

ایرانی اراضی میں خراسان گروپ

امریکا میں 11 ستمبر کے واقعات کے بعد سیف العدل کو بعض عرب جنگجوؤں کے تحفظ اور انہیں ایران پہنچانے کی ذمے داری سونپی گئی جس کے بعد ان کو مناسب طور تقسیم کیا جانا تھا۔ سیف العدل کے مطابق ابو مصعب زرقاوی اور اس کا گروپ سن جنگجوؤں میں شامل تھا۔

سیف العدل کے مطابق "جزیرہ عرب ، کویت اور امارات کے وہ ساتھی جو افغانستان سے باہر تھے وہ سب ہم سے پہلے ایران پہنچ چکے تھے اور ان کے پاس اچھی خاصی رقم موجود تھی۔ اس کے بعد مرکزی قیادت کا حلقہ اور اس حلقے کی شاخیں تشکیل دے دی گئیں۔ بعض ساتھیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے کرائے پر گھروں کا انتظام کیا گیا۔ اس سلسلے میں افغان کمانڈر گل بدین حکمت یار کی جماعت کی طرف سے اچھی مدد پیش کی گئی۔ انہوں نے اپنے زیر ملکیت بعض گھروں اور فارمز کو ہمارے لیے فراہم کر دیا"۔

القاعدہ کے "خراسان گروپ" کے حوالے سے ایران کا کردار "ابو احمد" کی جانب سے تحریر کیے جانے والے بیان میں جو اپریل 2014 میں شائع ہوا تھا.. سامنے آیا۔ " وہ لکھتا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد میں افغانستان کے قندھار ایئرپورٹ پر زندہ رہ جانے والے دس افراد میں شامل تھا۔ ہمیں پہلے افغانستان اور پھر پاکستان میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس کے بعد علاج مکمل کرانے کے لیے ایرانی بلوچستان میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ مجھے ایک گروپ کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا جس میں موحود المصری بھی شامل تھا۔ گرفتاری کے ایک ماہ بعد بھی ہمارے پاس کوئی شناختی دستاویزات نہیں تھے۔ ایرانی حکام نے ہمارے لیے جعلی عراقی پاسپورٹ تیار کروائے جن کے ذریعے ہم ملائیشیا چلے گئے۔ کچھ مدت دیگر ساتھیوں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر ایران لوٹ آئے مگر اس مرتبہ دوسرے جعلی پاسپورٹ تھے۔ بعد ازاں ایران میں ہمیں مزید جعلی پاسپورٹ فراہم کیے گئے جن کے ذریعے ہم نے عراق کا سفر کیا"۔

یاد رہے کہ القاعدہ کے خراسان گروپ کو مسئلہ فلسطین کے ساتھ مربوط کرنا یہ وہ ہی نقطہ ہے جس پر زرقاوی کا اپنے بہنوئی عاروری اور دیگر ساتھیوں سمیت اتفاق رائے ہوا تھا.. اور حمزہ بن لادن (اسامہ بن لادن کا بیٹا) کے آخری خطاب میں اسی کا تذکرہ کیا گیا تھا۔