.

بشار نے آستانہ کانفرنس کو "دہشت گردوں "کے ساتھ بات چیت قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد نے 23 جنوری کو مقررہ "آستانہ" کانفرنس کے حوالے سے اپنا لہجہ یکسر تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ " ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کانفرنس حکومت اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان بات چیت کی شکل میں ہو گی تاکہ فائر بندی تک پہنچا جا سکے۔"

بشار نے یہ بات ایک جاپانی چینلTBS کے ساتھ انٹرویو میں کہی جو جمعے کے روز نشر ہوگا۔ فیس بک پر شامی صدر کے صفحے پر بشار نے امید ظاہر کی کہ "آستانہ" شام کے مختلف فریقوں کے درمیان ہر حوالے سے بات چیت کا فورم ثابت ہوگا۔ بشار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ کانفرنس میں کون شریک ہوگا۔

بشار کا یہ بیان کہ "آستانہ" بات چیت شامی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان ہو گی.. کچھ گھنٹوں پہلے ایران کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان معاہدوں کے تحت ايران بحیرہ روم میں تیل کی ایک بندرگاہ قائم کرے گا۔ اس سلسلے میں شام کی 10 ہزار ہیکٹر اراضی پیش کی جائے گی جس میں نصف تو مذکورہ بندرگاہ کے لیے اور باقی مختلف اقتصادی منصوبوں کی صورت میں ہو گی۔ اس کے علاوہ ایران کو موبائل فون کا نیٹ ورک چلانے کا بھی حق ہوگا۔ اس اقدام کو شامی اپوزیشن ملکی املاک کی فروخت قرار دے رہی ہے جس کا مقصد شام اور خطے میں ایران کے رسوخ کو ممکن بنانا ہے۔