تہران: 15 منزلہ عمارت منہدم ، 30 فائر فائٹرز ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک عمارت کے گر جانے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد کے ہلاک ہو جانے کی رپورٹ ہے۔ اس عمارت کو ساٹھ کی دہائی میں ایک ایرانی النسل یہودی حبیب اللہ نے تعمیر کرایا تھا۔ حبیب اللہ کو انقلاب کے بعد اسرائیل کے لئے جاسوسی کے الزام میں جیل میں سزائے موت دے دی گئی تھی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق 15 منزلہ عمارت کی بالائی منزلوں میں جمعرات کی صبح آگ لگ گئی تھی جس کے بعد آگ بجھانے کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف تھا کہ اچانک عمارت منہدم ہو گئی۔ حادثے کے سبب آگ بجھانے والے آگ بجھانے والے عملے سمیت 30 افراد اپی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق عمارت کے گرنے سے قبل آتش زدگی کے سبب 30 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی درجنوں فائر فائٹر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

"پلاسکو بلڈنگ" کے نام سے معروف یہ عمارت 1962 میں تعمیر کی گئی تھی اور اس میں ایک بڑا تجارتی مرکز اور کپڑوں کی تیاری کے مراکز تھے۔

آگ بجھانے والے عملے کے ترجمان نے بتایا کہ عمارت کے ذمے داروں کو کئی بار خبردار کیا گیا کہ یہ عمارت مخدوش ہے اور کبھی بھی منہدم ہو سکتی ہے تاہم ان وارننگز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

نیوز ایجنسی کے مطابق عمارت میں موجود تمام لوگوں کو باہر نکال لیا گیا تھا۔

اسی حوالے سے "فارس" نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ ایرانی پولیس نے برطانیہ اور ترکی کے سفارت خانوں کے گرد ناکہ بندی کر دی ہے جو پلاسکو ٹاور کے نزدیک ہی واقع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں