.

داعش اور النصرہ کے سوا سب کو آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت نے اپنے وزیرخارجہ سیرگی لافروف کے ذریعے داعش اور النصرہ فرنٹ کے سوا شام کی تمام اعتدال پسند مسلح قوتوں آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی فہرست میں ’جیش الاسلام‘ کا نام دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل نہیں۔ اس لیے ہمیں بھی جیش الاسلام کے آستانہ مذاکرات میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کیونکہ جیش الاسلام شام میں جنگ بندی کے معاہدے میں بھی شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شام میں جنگ بندی معاہدے میں شامل مسلح گروپ آستانہ مذاکرات میں اپنے وفود بھیج سکتے ہیں۔

ادھر شام میں اپوزیشن کی حامی مسلح تنظیم تحریک احرار الشام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں کسی دوسرے فریق کی آستانہ کانفرنس میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں مگر وہ خود اس میں شرکت نہیں کرے گی۔

خیال رہے کہ شام میں جنگ بندی معاہدے میں قریبا 20 عسکری گروپ شامل ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی اصل توجہ شام میں عسکریت پسندی کی روک تھام اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے پر ہوگی۔

جیش الاسلام کے رہ نما محمد علوش آستانہ مذاکرات میں شامی عسکری گروپوں کے نمائندہ وفد کی قیادت کریں گے جب کہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بشار الجعفر اسد رجیم کی نمائندگی کریں گے۔

روسی حکومت کے ذمہ دار ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ آستانہ مذاکرات کے نتیجے میں پورے شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جاسکتے ہیں۔