.

موصل میں جاری لڑائی میں داعش کے بیشتر کمانڈر ہلاک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ایک جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی شہر موصل میں گذشتہ تین ماہ سے جاری لڑائی میں داعش کے بیشتر کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالغنی الاسدی کا کہنا ہے کہ موصل کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے لڑائی کو مشرقی حصے کی طرح مشکل نہیں ہونا چاہیے۔عراقی فوج نے موصل کے مشرقی حصے اور اس کے نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ اس کے مغربی حصے پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ برقرار ہے۔دریائے دجلہ موصل کے مغربی حصے کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔

جنرل الاسدی کے زیر کمان انسداد دہشت گردی سروس نے بدھ کے روز موصل کے کم وبیش تمام مشرقی حصے کو حکومت کی عمل داری میں لانے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ان شأ اللہ بہت جلد عراقی فورسز کے کمانڈرز موصل کے مغربی حصے میں ملاقات کریں گے،وہاں لڑائی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ داعش کے کمانڈروں کی اکثریت مشرقی حصے میں ماری جاچکی ہے‘‘۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

عراقی فوج نے جمعرات کے روز دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے واقع نینویٰ اوبرائے ہوٹل اور محلات کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔بغداد میں جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دجلہ کے شمال میں واقع ایک چھوٹے قصبے تل کیف پر بھی عراقی فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔تاہم فوج کی دجلہ کے مشرق میں واقع ایک علاقے العربی میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔صرف یہی علاقہ اب داعش کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ موصل پر قبضے کے لیے جاری جنگ کے دوران میں داعش بہت کمزور ہوچکے ہیں اور فوج نے شہر کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے پیش قدمی کا آغاز کردیا ہے۔

عراقی فوج ،پولیس اور انسداد دہشت گردی سروس نے 17 اکتوبر 2016 کو داعش کے خلاف موصل کو بازیاب کرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا۔تب امریکی فوج کے ایک تخمینے کے مطابق داعش کے تین سے پانچ ہزار جنگجو موصل میں موجود تھے اور شہر کے نواح میں ان کی تعداد ڈیڑھ سے ڈھائی ہزار کے درمیان تھی۔ ان میں ایک ہزار کے لگ بھگ غیرملکی جنگجو بتائے جاتے تھے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران موصل میں داعش کے خلاف لڑائی عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سست روی کا شکار رہی ہے کیونکہ بہت سے مکینوں نے اپنا گھربار چھوڑنے اور شہر خالی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عراقی فورسز کی اس احتیاط کے باوجود لڑائی ،فضائی بمباری اور بم دھماکوں میں سیکڑوں شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔