.

شام: وادی بردیٰ میں فائر بندی پھر اپنی موت مرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن ریڈ کراس کے توسط میں شامی دارلحکومت کے علاقے وادی بردیٰ میں نئے سرے سے جنگ بندی کے معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگی ہیں۔ دھماکوں کی یہ آوازیں شامی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیا کی جانب سے عین الفیحہ اور دیر مقرن میونسپلٹیز پر توپخانے اور میزائل حملوں کے نتیجے میں پیدا ہو رہی ہیں۔

بشار الاسد کی فوج عین الفیجہ کے اہم مرکز پر کئی اطراف سے چڑھائی کر رہی ہے تاکہ دمشق کو پانی سپلائی کے اس مرکزی منبع پر کنڑول حاصل کیا جا سکے۔

اس پیش رفت کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد کی تمام کوششیں ایک مرتبہ پھر بے نتیجہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے اور گولیوں کا نشانہ بننے والے نہتے شہریوں کی جانب سے جان بچانے کی اپیلوں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔

جنگ بندی کا مقصد عین الفیجہ کے علاقے میں مرمت کا کام کرنے والے عملے کے داخلے کو یقینی بنانا تھا تاکہ وہاں نصب واٹر پمپس ٹھیک کئے جا سکیں اور سرکاری فوج کو البسیمہ قصبے سے نکالنے کے ساتھ ساتھ ادلب جانے کے خواہش مند جنگجوؤں کو بھی محفوظ راستہ دیا جا سکے۔