.

موصل : عراقی فوج کو داعش کے خلاف گھمسان کی لڑائی کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف جنگ آزما عراقی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالغنی الاسدی نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے کے مکینوں کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ فتح قریب ہے۔

انھوں نے اتوار کے روز موصل کے مکینوں کو یہ نئی تسلی دی ہے۔انھوں نے دو روز پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ موصل کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے داعش کے خلاف لڑائی کو مشرقی حصے کی طرح مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

عراقی فوج نے موصل کے مشرقی حصے اور اس کے نواحی علاقوں پر جمعرات کو مکمل قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ اس کے مغربی حصے پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ برقرار ہے۔دریائے دجلہ موصل کے مغربی حصے کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ عراقی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ مغربی موصل میں گھمسان کی لڑائی کی توقع ہے۔ شہر کا یہ حصہ زیادہ گنجان آباد ہے اور اس وقت بھی وہاں اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق ساڑھے سات لاکھ کے لگ بھگ لوگ رہ رہے ہیں۔

جنرل الاسدی کے زیر کمان انسداد دہشت گردی سروس نے موصل کے کم وبیش تمام مشرقی حصے کو حکومت کی عمل داری میں لانے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ''ان شاءاللہ بہت جلد عراقی فورسز کے کمانڈرز موصل کے مغربی حصے میں ملاقات کریں گے،وہاں لڑائی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ داعش کے کمانڈروں کی اکثریت مشرقی حصے میں ماری جاچکی ہے''۔

دریں اثناء امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل جوزف مارٹن نے موصل کے مشرقی حصے میں داعش کے خلاف جنگ میں تیز رفتار پیش قدمی کو عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر روابط کا نتیجہ قرار دیا ہے اور ان کے مربوط حملوں کے نتیجے میں داعش موصل کے مشرقی علاقوں سے شکست کے بعد پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ دشمن پر مختلف اطراف سے حملے کررہے ہیں لیکن دشمن ان کا جواب دینے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔ تاہم عراقی فورسز کا کہنا ہے کہ داعش کی دفاعی حصار کو توڑنے ،ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور رات کے وقت چھاپا مار کارروائیوں کی بدولت انھیں فتوحات حاصل ہوئی ہیں۔ان کارروائیوں میں داعش کی مقامی قیادت کو اٹھا لیا گیا تھا۔

عراقی فورسز نے مغربی شہر فلوجہ میں بھی داعش کے خلاف لڑائی کے دوران ایسی کامیاب کارروائیاں کی تھیں۔موصل میں اتحادی فورسز نے بھی داعش کے خلاف رات کے وقت چھاپا مار کارروائیوں میں حصہ لیا ہے جن کی وجہ سے انھیں تیز رفتار پیش قدمی میں مدد ملی ہے۔

داعش کے خلاف موصل کو بازیاب کرانے کی اس کارروائی کے دوران میں عراقی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔طبی ذرائع کے مطابق موصل آپریشن میں اب تک سولہ سو عراقی فوجی ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔ اس تعداد میں کرد فورسز البیش المرکہ کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔