.

مصری حکومت کو اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائی کا پابند کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اعلی عدالت نے ایک فیصلے میں حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ 1956 اور 1967 کی جنگوں کے دوران اسرائیل میں قتل ہونے والے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے مصری قیدیوں کے حوالے سے قصاص کو یقینی بنائے۔

اعلی عدالت نے ہفتے کے روز اپنے فیصلے میں قاہرہ کی عدالت کی جانب سے مارچ 2008 میں دیے جانے والے اُس فیصلے کی مکمل تائید کی ہے.. جس میں حکومت کو اس امر کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ 1956 اور 1967 کی جنگوں کے دوران مصری قیدیوں کے قصاص کے سلسلے میں مطلوبہ اقدامات کرے اور قتل اور تشدد کے حوالے سے زرِ تلافی کو یقینی بنائے۔

مقدمہ دائر کرنے والے مصری شہری وحید الاقصری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ مقدمے میں مصری حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور اُس کی حکومت سے قتل اور تشدد کا نشانہ بننے والے مصری قیدیوں کے واسطے زر تلافی کا مطالبہ کرے۔

الاقصری کے مطابق ان کے پاس کئی دستاویزی فلمیں موجود ہیں جن سے اسرائیل کے ہاتھوں سیکڑوں مصری قیدیوں کے قتل اور بعض کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ " 1950 میں اسرائیل کا اپنا ایک قانون (نمبر 5910) اس مقدمے کو سپورٹ کرتا ہے اور عدالتی کارروائی کے لیے مقررہ مدت گزر جانے کے باجود بھی ان جرائم کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی"۔ علاوہ ازیں اسرائیل 1951 کے جنیوا معاہدے پر دستخط کرنے کے تحت خود بھی ان قتل عام کے مرتکب افراد کو عدالتی کارروائی کے لیے پیش کرنے اور زرِ تلافی کی ادائیگی کا پابند ہے۔

الاقصری کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ حتمی ہے جو مصری حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم کا سہارا لے کر بین الاقوامی فوج داری عدالت تشکیل دے جو ان قتل عام میں ملوث اسرائیلی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور ساتھ ہی مقتول افراد اور قیدیوں کے اہل خانہ کے واسطے ہرجانہ وصول کرے۔