.

ہزاروں عراقی داعش کے شناختی دستاویزات سے کیسے آزاد ہوں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ہزاروں شہریوں نے موصل میں داعش کے چنگل سے تو آزادی حاصل کر لی مگر ان افراد کو اپنے ذاتی دستاویزات کی تصدیق کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بالخصوص نکاح ناموں اور پیدائش کے سرٹفیکٹ سے متعلق جو داعش تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے۔ اس کے نتیجے مین عراقیوں کی ایک بڑی تعداد موصل کے قریب الخازر کیمپ میں قائم عبوری عدالت کے باہر انتظار کرتے ہوئے نظر آتی ہے ، یہ افراد ہاتھوں میں داعش کی جانب سے جاری دستاویزات تھامے ہوتے ہیں تاکہ ان کو تبدیل کرایا جا سکے۔

سب زیادہ پیچیدہ معاملہ اُن عراقی خواتین کا ہے جو موصل میں داعش کی انتظامیہ کے تحت رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور ان کے یہاں بچوں کی پیدائش بھی ہو گئی۔ عراقی حکام کے نزدیک ایسی عراقی خواتین ابھی تک کنوراری ہیں اور ان کے بچوں کا بھی کوئی وجود نہیں اس لیے کہ حکام داعش کی جانب سے ان خواتین کو جاری نکاح نامے اور بچوں کی پیدائش کے سرٹفکیٹ کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔

عراقی حکام اس وقت داعش کی بیورو کریسی ورثے کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں تاہم ان کوششوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ لڑائی کے بعد جن لوگوں نے نقل مکانی کی ان میں اکثریت کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں کیوں کہ کرد ریجن میں حکام نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان لوگوں سے شناختی کارڈ واپس لے لیے تھے۔

اسی سلسلے میں طلاق کے معاملات میں خصوصی کٹھن صورت حال سامنے آ رہی ہے اس لیے کہ عراقی قانون کے مطابق شادی کے خاتمے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کا موجود ہونا لازمی ہے۔ تاہم داعش کی حکومت کے دوران بہت سے شوہر اپنی بیویوں سے جدا ہو کر ہو کر غالبا دور دراز علاقوں کی طرف فرار ہو چکے ہیں۔

یہاں تک کہ وفات اور اموات کا اندراج بھی مشکل ہو گیا ہے۔ حکام کی جانب سے کسی بھی فوتگی کو تسلیم کیے جانے سے قبل معاملے کو ایک دوسری عدالت کے حوالے کیا جاتا ہے جو دہشت گردی کے مقدمات سے نمٹتی ہے۔