.

داعش کا سعودی عرب میں "بارودی بیلٹوں" کا استعمال ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت داخلہ کے زیر انتظام سکیورٹی اداروں نے ہفتے کے روز جدہ شہر میں دہشت گردی کے ایک اڈے کا خاتمہ کیا ہے جس میں بارودی بیلٹیں تیار کرنے والا کارخانہ بھی تھا۔ اس کامیاب آپریشن کے دوران دو خطرناک دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا کر ہلاک بھی کر ڈالا۔

تاہم یہاں ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ شدت پسند تنظیم یہ دھماکا خیز مواد فراہم کرنے میں کس طرح کامیاب رہی ؟ بالخصوص جب کہ برآمد ہونے والی باردوی بیلٹوں کی تیاری آسان نہیں۔

اس حوالے سے عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر جنرل محمد القبیبان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جس کارخانے کی تصاویر جاری ہوئی ہیں یہاں انتہائی کم لاگت کا مواد پایا گیا۔ اس کے لیے لیے ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس کیمسٹری کا علم اور تجربہ ہو تاکہ اس مواد کوTNT یا C4 کے ساتھ ملانے پر دھماکا کیا جا سکے۔ القبیبان کے مطابق "دھماکے کی شدت کا انحصار مواد کی مقدار پر ہے جو پٹرول یا دیگر دھماکا خیز مواد کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔ دہشت گرد جماعتیں ماضی میں ڈائنامائٹ کا استعمال کیا کرتی تھیں تاہم دہشت گردوں کے اس سے فائدہ اٹھانے کے سبب مملکت نے اس کو ممنوع قرار دیا جس کے بعد ان عناصر نے متبادل مواد کا سہارا لیا"۔

عسکری امور کے ماہر نے باور کرایا کہ "اکثر دہشت گرد جماعتوں میں مختلف عرب شہریتوں کے حامل ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو بجلی کے شعبے سے وابستہ ہوں"۔

"بارودی بیلٹ " اور "انسان کی ہلاکت "

بریگیڈیئر جنرل القبیبان نے زور دے کر بتایا کہ "بارودی بیلٹ دھماکے کے لیے تیار ڈائنامائٹ کی مانند ہوتی ہے اور اس کا اثر تقریبا نصف کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ یہ کنکریٹ اور ٹھوس چیزوں میں شگاف نہیں ڈال سکتی تاہم انسانی جان کو ضرور ختم کر دیتی ہے"۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ " اس نوعیت کے کارخانوں میں ایسا دھماکا خیز مواد بھی تیار کیا جاتا ہے جو کار بم دھماکے میں استعمال ہو سکے۔ اس کی پہنچ 200 میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی"۔

تاہم دھماکے کے نتیجے میں انسانی جسم کے چیتھڑے اڑنے کے حوالے سے بڑا نقصان ہوتا ہے جب کہ جسم نصف کلو گرام سے زیادہ دھماکا خیز مواد برداشت نہیں کر سکتا کیوں کہ دھماکا خیز مواد میں ایسے بیئرنگ شامل کیے جاتے ہیں جو اُڑ کر انسان کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں"۔

بارودی بیلٹ کے دھماکے کا وقت

جہاں تک بارودی بیلٹ کے دھماکے کے وقت کا تعلق ہے تو اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم میں وقت متعین ہوتا ہے اور الٹی گنتی پوری ہونے کے بعد دھماکا ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم پرانے موبائل فون سیٹ کے ساتھ پروگرام شدہ ہوتی ہے اور محض ایک مخصوص بٹن دباتے ہی دھماکا ہو جاتا ہے۔

القبیبان کے مطابق " سعودی عرب میں ایسے خصوصی کارخانے موجود نہیں جو دہشت گردوں کو ہتھار تیار کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔ تاہم مائع سیال اور پاؤڈر وغیرہ جیسا ساز و سامان دشمن ممالک کے راستے اسمگل کیا جاتا ہے"۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے ایک ہفتہ قبل سکیورٹی حکام کو مطلوب ایک انتہائی خطرناک ترین تخریب کار "طايع الصيعری" کا خاتمہ کیا جو بارودی بیلٹوں اور دھماکا خیز مواد کی تیاری کا ماہر شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سعودی عرب میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اور اس پر عمل درامد میں بھی ملوث رہا ہے۔