.

ایرج مسجدی کا بطور ایرانی سفیر تقرر.. عراق کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں قومی سلامتی کے مشیر فالح الفیاض کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بریگیڈیئر جنرل ایرج مسجدی کے بغداد میں بطور ایرانی سفیر تقرر کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مسجدی ایرانی پاسداران انقلاب کے ونگ "قدس فورس" کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا مشیرِ اعلی ہے۔

الفیاض کے مطابق عراق ایرج مسجدی کے تقرر کی منظوری دے گا اس لیے کہ اس نے " پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کی سپورٹ میں حصہ لیا "۔ واضح رہے کہ عراق میں اپوزیشن اور عرب دنیا میں اس اقدام کے خلاف احتجاجی آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ایرانی قدس فورس سے تعلق رکھنے والے اعلی افسر کو بغداد میں سفیر مقرر کیا گیا ہے جس کا نام بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔

ایرانی ٹی وی چینل " العالم" سے اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے فالح الفیاض (جو عراقی پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں) نے کہا کہ " بریگیڈیئر جنرل ایرج مسجدی کے بغداد میں سفیر کے منصب پر تقرر کا سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ معاملہ ایران اور عراق کے درمیان مربوط ہے"۔ الفیاض کا اشارہ بغداد میں سابق سعودی سفیر ثامر السبہان کے بیان کی جانب تھا جنہوں نے ایرج مسجدی کے بارے میں کہا تھا کہ "وہ ایک جنگی مجرم اور بین الاقوامی سطح پر مطلوب ہے"۔

عراقی قومی سلامتی کے مشیر نے باور کرایا کہ " ایرج مسجدی کے حوالے سے ہماری بہت اچھی یادیں ہیں جنہوں نے عراق میں داعش تنظیم کے داخل ہونے اور کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا اور عراقی فورسز کی سپورٹ میں بھرپور حصہ لیا"۔

عراق میں ایرانی سفیر قدس فورس کے کمانڈر

ایران نے 2003 میں صدام حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک بغداد میں تین سفیر مقرر کیے اور ان سب کا تعلق " قُدس فورس" سے ہے۔ ان میں سب سے پہلا حسن كاظمی قمی تھا جس نے سفیر کے منصب پر 6.5 برس کام کیا۔ اس کے بعد قُدس فورس میں بحری فوج کے کمانڈر حسن دنائی فر نے 6 برس تک سفیر کی ذمے داریاں سر انجام دیں۔

اب تیسرا سفیر بریگیڈیئر جنرل ایرج مسجدی ہے جو قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا مشیرِ اعلی ہے۔

مسجدی پاسداران انقلاب کے سینئر ترین رہ نماؤں میں سے ہے۔ وہ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کے دور (2006 – 2014) میں ایرانی پاسداران انقلاب کے "رمضان" نامی صدر دفتر کا سربراہ بھی رہا۔ 1983 میں قائم کیا جانے والا یہ دفتر ایران سے باہر پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کارروائیاں سر انجام دیتا ہے اور گوریلا جنگ اور سڑکوں پر لڑائی کے لیے مخصوص ہے۔

ایرج مسجدی اس وقت پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی قیادت کی نگرانی کر رہا ہے۔ موبیلائزیشن کے رہ نما ہادی العامری اور انجیںئر ابو مہدی براہ راست مسجدی سے احکامات وصول کرتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے مسجدی کے ساتھ اُس وقت سے گہرے تعلقات ہیں جب وہ ایران عراق جنگ (1980 – 1988) کے دوران پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں شریک تھے۔

مسجدی 2014 سے عراق میں فیلق القدس کے صدر دفتر کے نگراں کے طور پر قیام پذیر رہا۔ وہ عراق میں ایرانی پالیسیوں پر عمل درامد کے واسطے اعلی ترین اہل کار ہے۔