.

ایران ،ترکی اور روس شام میں جنگ بندی کی نگرانی کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ،ترکی اور روس شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک سہ فریقی میکا نزم وضع کریں گے اور اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ جنگ بندی کو کیسے کامیاب کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات تینوں ملکوں نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منگل کو دو روزہ شام امن مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان میں کہی ہے۔ تینوں ملکوں نے شامی حزب اختلاف کے گروپوں کی آٹھ فروری کو جنیوا میں مذاکرات کے آیندہ دور میں شرکت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا شامی حزب اختلاف یا دمشق حکومت نے بھی اس اعلامیے کی حمایت کی ہے یا نہیں۔

شامی حزب اختلاف ناخوش

شامی باغیوں نے اس اعلامیے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔مذاکرات میں شریک حزب اختلاف کے ایک مندوب کا کہنا تھا کہ ''ایران شام کے مختلف علاقوں میں جنگی کارروائیاں کررہا ہے اور اس نے ہزاروں شامیوں کو زبردستی بے گھر کیا ہے اور ان کا خون بہایا ہے۔اس لیے اس اعلامیے سے تو اس کا یہ کردار جائز اور قانونی ٹھہرے گا''۔

ایک اور مندوب کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف اس اعلامیے کی توثیق نہیں کرے گی۔ان کے بہ قول ترکی کا کردار ان مذاکرات میں کمزور رہا ہے اور اور وہ باغیوں کا موقف اجاگر کرنے میں ناکام رہا ہے۔

قازق دارالحکومت میں روس ،ترکی اور ایران کی حمایت اور کوششوں کے نتیجے میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ اور تیسرے فریق کے ذریعے یہ بات چیت ہوئی ہے۔ گذشتہ سال کے اوائل میں جنیوا میں ان کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات منقطع ہونے کے بعد یہ پہلا ٹاکرا تھا۔

تاہم آستانہ اجلاس میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اس میں شامی حکومت کی نمائندگی اقوام متحدہ میں سفیر بشارالجعفری نے کی ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور بڑا عہدہ دار حزب اختلاف سے بات چیت کے لیے نہیں آیا ہے۔حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کے نمائندے محمد علوش کی سربراہی میں ان مذاکرات میں شریک تھے۔

حزب اختلاف کے ایک ترجمان یحییٰ العریضی نے مذاکرات کے دوران روس کے کردار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ '' ہم نے روسیوں کی جانب سے حقیقی تفہیم کو نوٹس کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ '' ہم یہ سمجھتے ہیں ،وہ شام میں فوجی اعتبار سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے،وہ انھوں نے حاصل کر لیا ہے۔اب وہ اس جنگی کامیابی کو سیاسی سودے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور یہ جنگ بندی ہوسکتی ہے''۔