.

عراقی وزیراعظم کا موصل میں گرفتاریوں اورتشدد کی تحقیقات کا حکم

کسی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی:العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنگ زدہ شہر موصل میں حکومت نواز فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ظالمانہ گرفتاریوں اور دوران حراست تشدد کے واقعات پر مبنی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیراعظم حیدر العبادی نے شہریوں کے اغواء اور تشدد کے واقعات کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے دوران بھی موصل میں شہریوں کو سرکاری فوج اور الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کے ہاتھوں تذلیل کا نشانہ بنائے جانے پر بحث کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم حیدر العبادی نے موصل اور صوبہ نینویٰ میں فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں، اغواء اور ان پر تشدد کے واقعات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔

وزیراعظم العبادی کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت انسانی حقوق کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محاذ جنگ پڑ لڑنے والے فوجیوں اور دیگرفورسز کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جنگ کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔

قبل ازیں عراق میں اقوام متحدہ ہائی کمشن برائے انسانی حقوق نے بھی بغداد حکومت سے موصل میں داعش کے خلاف لڑائی کے دوران شہریوں کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ کمیشن کی طرف سے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عراقی فوج اور اس کی معاون ملیشیا داعش سے تعلق کے الزام میں شہریوں کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار تین افراد کو ظالمانہ طریقے سے قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان تینوں شہریوں کو مشرقی موصل کی ایک کالونی سے گرفتار کیا گیا تھا۔