.

ایران کی دہشت گردی اور میزائل پروگرام کے خلاف آئندہ امریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں منگل کے روز 3 ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف غیر نیوکلیئر پابندیوں سے متعلق ایک نیا ایکٹ پیش کیا ہے۔ اس کا سبب ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی اور ممنوعہ بیلسٹک میزائل سے متعلق خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

امریکی ویب سائٹ " نیوز میکس" کے مطابق یہ ایکٹ ماركو روبيو ، جان كورنِن اور ٹیڈ ینگ نے تیار کیا ہے۔ ایکٹ کا مقصد دہشت گردی کی سپورٹ اور بیلسٹک میزائل سے متعلق ایرانی پروگرام کی پیش رفت میں ملوث ایرانی شخصیات اور اداروں کے خلاف سخت نوعیت کی مالی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے۔

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ " سابقہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یک طرفہ طور پر ایران کی جانب نرمی اور رعایتوں کے کئی برس گزرنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا سنجیدگی سے حرکت میں آئے"۔ روبیو نے مزید کہا کہ " میں نئی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھوں گا تاکہ ایران کو اس کے نیوکلیئر اور غیر نیوکلیئر خطرات کے حوالے سے ذمے دار ٹھہرایا جا سکے"۔

انڈیانا ریاست سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ینگ نے باور کرایا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے پیش رفت خطے میں امریکا کے حلیفوں اور امریکی افواج کے علاوہ یہاں تک کہ امریکی سرزمین کے لیے بھی خطرہ ہے"۔

ادھر ٹیکساس ریاست سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کورنین نے کانگریس اور امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر ایسی شکل میں پابندیاں عائد کی جائیں جن سے حقیقی نتائج برآمد ہوں۔

ایران نے اچھے برتاؤ کا ثبوت نہیں دیا

آئندہ امریکی پابندیوں سے متعلق خبریں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب کہ 241 ایرانی شخصیات اور اداروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں پہلے ہی لاگو ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجہ ایران کی جانب سے عالمی برادری کے سامنے اچھے برتاؤ کا کوئی ثبوت پیش نہ کرنا ہے۔

ایران کی سابقہ حکومتوں میں متعدد منصبوں پر فرائض انجام دینے والی ایک نمایاں ایرانی شخصیت محمد نبی حبیبی نے ایرانی صدر حسن روحانی کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ حبیبی کے مطابق اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کی رپورٹ روحانی کے بیان سے متضاد ہے۔

حبیبی کا کہنا تھا کہ 241 ایرانی شخصیات اور اداروں پر پابندیاں زیادہ سے زیادہ مزید 7 برس تک عائد رہیں گی۔ مدت پوری ہونے کے بعد ان افراد کے نام یورپی ، امریکی اور اقوام متحدہ کی فہرستوں سے ہٹا دیے جائیں گے۔