.

کنگ فیصل ایئر اکیڈمی کے بارے میں اہم معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر اکیڈمی کی تاسیس کو بدھ کے روز 50 برس مکمل پورے ہو گئے۔ آیے دارالحکومت ریاض میں قائم اس اکیڈمی کے بارے میں کچھ اہم معلومات حاصل کرتے ہیں جہاں سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد جنگی ہوا بازی کے شعبے میں فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

اس اکیڈمی کا افتتاح 1970ء میں ہوا۔ اس وقت سے یہ تدریس اور تربیت میں اعلی سطح کی عسکری اکیڈمی کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ہوابازی کے جدید علوم، انجینئرنگ، دیکھ بھال، فضائی نگرانی، لڑاکا طیاروں کی رہ نمائی، ترسیل، تربیت اور سکیورٹی کے شعبوں میں ہواباز افسران اور تکنیک کاروں کو تیار کرنا ہے۔
ابتدائی طور پر مملکت میں ہوابازی سے متعلق علوم کی تدریس کنگ عبدالعزیز وار کالج میں ہوتی تھی۔ بعد ازاں سعودی رائل ایئرفورس میں توسیع کی ضرورت کے پیش نظر سعودی عرب کے سابق وزیر دفاع اور ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز مرحوم نے 1967 میں کنگ عبدالعزیز وار کالج کے 26ویں دستے کے فارغ ہونے کے ساتھ ہی کنگ فیصل ایئر اکیڈمی کی تاسیس کے آغاز کا اعلان کر دیا۔
تین برس کے بعد مئی 1970 میں شاہ فیصل مرحوم کے زیر سرپرستی مذکورہ اکیڈمی کا سرکاری طور پر افتتاح کیا گیا۔ وقت کے ساتھ اکیڈمی ترقی کے مراحل طے کرتی گئی اور پھر بہترین اور معروف درس گاہوں کی صفوں میں آ کھڑی ہوئی۔ اس دوران سعودی حکومت کی جانب سے لامحدود سپورٹ ، جدید ترین طیارے اور تربیت کے وسائل فراہم کیے گئے۔

ہر سال داخلے کے خواہش مند سیکڑوں نوجوان اکیڈمی کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم داخلے کے حوالے سے اکیڈمی نے اپنا سخت معیار وضع کر رکھا ہے۔ داخلہ لینے والوں کو طبی معائنے اور جسمانی اہلیت کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ درخواست دینے والے امیدوار کو سائنس اور تیکنیکی شعبے میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں کم از کم 80% نمبروں کا حامل ہونا لازمی ہے۔ امیدوار کو غیر شادی شدہ اور 17 سے 22 برس کی عمر کے درمیان ہونا چاہییے۔ اس کے علاوہ امیدوار کا قد ، وزن اور طبی حالت اکیڈمی کی مطلوبہ شرائط کے مطابق ہوں۔

کنگ فیصل اکیڈمی میں داخلہ لینے والے طلبہ لیفٹننٹ کے عہدے کے ساتھ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں سعودی عرب میں مختف فضائی اڈوں پر متعین کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ طلبہ خصوصی شعبوں میں حاصل کی جانے والی تعلیم کو عملی طور پر استعمال میں لاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اکیڈمی سے سعودی عرب کے متعدد دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی ہوابازی کی اور تکنیکی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

1