.

یمن : نائب صدر کی صعدہ میں فوجی یونٹوں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تزویراتی اہمیت کی حامل المخا کی بندرگاہ کے نزدیک سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں شدت آ گئ ہے۔ اس دوران عرب اتحادی افواج کی بکتربند گاڑیوں اور ٹینکوں نے اتحادی طیاروں کی شدید بم باری کی معاونت سے شہر کے مشرق میں حکومتی کمپلیکس کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے المخا شہر کے نزدیک واقع خالد بن الولید عسکری کیمپ پر حملے کا آغاز کر دیا جس کا شمار اہم ترین کیمپوں میں ہوتا ہے۔ اس کیمپ پر یمنی فوج کے کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں باغی ملیشیاؤں کے لیے عسکری کُمک منقطع ہو جائے گی اور المخا کو مکمل طور پر تعز صوبے سے علاحدہ کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ المخا کی بندرگاہ کو آزاد کرانا انتہائی دشوار تھا تاہم یمنی فوج نے اس دوران باغی ملیشیاؤں کے سامنے عسکری امداد اور اسمگلنگ کے آخری مواقع کی بھی ناکا بندی کر ڈالی تاکہ صومالیہ ، اریٹریا اور جیبوتی میں آبنائے باب المندب کے مقابل ساحلوں کی بندرگاہوں کی جانب سے بھی کوئی راستہ نہ ملے۔

دوسری جانب یمن کے نائب صدر لیفٹننٹ جنرل علی محسن الاحمر نے صعدہ صوبے میں دو محاذوں البقع اور باقم پر سرکاری فوج سے ملاقات کی۔ اس موقع پر الاحمر نے کہا کہ سرکاری فوج نے اتحادی ممالک کی سپورٹ کے ساتھ مختلف محاذوں پر مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں المخا شہر اور اس کی بندرگاہ کو آزاد کرانا شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کو باور کرایا کہ عنقریب پورے یمن میں قومی پرچم لہرایا جائے گا۔