.

ترکی شام میں محفوظ علاقوں کے لیے وعدے پر عمل درآمد کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حسین مفتی اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام میں محفوظ زونز(علاقوں) کے قیام کے لیے احکام جاری کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کا منتظر ہے۔ترکی ایک عرصے سے شام میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ایک محفوظ زون کے قیام کا مطالبہ کرتا چلا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ شام میں تشدد سے جانیں بچا کر راہ فرار اختیار کرنے والے مہاجرین کے لیے محفوظ علاقوں کے قیام کی غرض سے اقدام کریں گے۔ایک دستاویز کے مطابق امریکی صدر آیندہ دنوں میں اس سلسلے میں منصوبہ وضع کرنے کی کرنے کی غرض سے پینٹاگان اور محکمہ خارجہ کو حکم جاری کریں گے۔

حسین مفتی اوغلو نے جمعرات کو انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ہم نے اس سلسلے میں امریکی صدر کی ایک اسٹڈی کے لیے درخواست ملاحظہ کی ہے۔اہم بات اس مطالعے کے نتائج ہیں اور یہ کہ کس قسم کی سفارشات پیش کی جاتی ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''شام میں بعض عناصر کو قازق دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات میں پیش رفت سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ جنگ بندی کو ختم کرسکتے ہیں۔اب یہ ضامن ممالک ترکی ،روس اور ایران کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسا نہ ہونے دیں''۔