.

جیل میں 1200 کتابوں کا مطالعہ.. امتیازی درجے میں گریجویشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمّتِ مرداں مددِ خُدا.. یہ قول ایک سابق فلسطینی قیدی نزار التمیمی پر بھی صادق آتا ہے جس نے امتیازی درجے کے ساتھ گریجویشن کی ڈگری (پولیٹیکل سائنس کے مضمون میں اعلی ترین نمبر) حاصل کر لی۔ نزار نے ساڑھے تین سال قبل اسرائیلی جیل سے رہائی کے فوری بعد اردن کی یونی ورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔

نزار التمیمی نے تقریبا اپنی آدھی زندگی اسرائیلی جیلوں میں گزار دی۔ وہ قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت 20 برس بعد رہا کیا گیا جس کے بعد اس نے معمول کی زندگی کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا اور اپنے ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کا عزم کیا جن کو قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے قید نے پورا ہونے سے روک دیا تھا۔

نزار نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے گرفتاری ہونے کے ساتھ ہی اس حقیقت کو جان لیا تھا کہ اگر وہ جیل کی زندگی کو کام میں نہ لایا تو اس کی پوری عمر برباد ہوجائے گی۔ لہذا اس نے ورزش اور کھیل کود ، مطالعہ اور اچھے سماجی تعلقات پر پوری توجہ دی۔ نزار کے مطابق "مطالعہ عقل کی غذا ہے اور جان کاری ، ثقافت اور علم انسان کی ذات کو اور شخصیت کی تعمیر کرتی ہے۔ اسی واسطے میں نے کتاب کے ساتھ اپنا خصوصی تعلق قائم کر لیا کیوں کہ یہ میرے وجود کو ایک معنی دیتا تھا"۔

جیل میں 1200 کتابیں

نزار نے بتایا کہ " مطالعہ میرے روزانہ کے معمولات کا بنیادی حصہ ہوتا تھا۔ میں مختلف موضوعات پر 6 سے 8 گھنٹے مطالعہ کرتا تھا۔ بعض مرتبہ میں ہر چھ ماہ میں مختلف موضوعات پر 35 کتابیں پڑھ لیا کرتا تھا۔ ان موضوعات میں سیاست ، ادب ، فلسفہ ، مذہب ، تاریخ اور دیگر شامل ہیں"۔ فلسطینی قیدیوں نے مختلف وقتوں میں اسرائیلی حکام کو مجبور کر دیا کہ وہ جیلوں میں کتابوں کے آنے کی اجازت دیں۔ اس طرح ہر قید خانے میں ایک عمومی کتب خانہ قائم ہو گیا جہاں سیکڑوں کتابیں دستیاب ہوتی تھیں۔

آنکھوں کے سامنے والدہ کی ہلاکت !

اسرائیلی فوج نے دوران قید ہی نزار کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کی زندگی کا چراغ گُل کر دیا تھا۔ نزار کی ماں اپنے بیٹے کے خلاف عدالتی کارروائی میں پیش ہوئی تھی کہ اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے اس پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ماں کی ہلاکت نے نزار کی سوچ اور احساسات پر گہرا اثر ڈالا تاہم اس امر نے اسے حوصلہ بھی دیا کہ وہ اپنی ماں کے خواب کو پورا کرے۔

نزار نے رہائی کے بعد اردن کا رخ کیا اور اپنی یونی ورسٹی تعلیم کو مکمل کیا۔ گرفتاری کے وقت وہ بیرزیت یونی ورسٹی میں سال اوّل کا طالب علم تھا۔ نزار کے مطابق دوران قید مطالعہ اور علم میں اضافے کی سرگرمیوں سے قابض اسرائیلی حکام کو یہ پیغام دیا جا سکتا ہے کہ بنیادی حقوق سے محروم کیے جانے کے باوجود ہمارے اندر زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے۔