.

کوئی متوازی سفارت کاری انجام نہیں دے رہا : راشد الغنوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں "النہضۃ" تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی اُن رپورٹوں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ الغنوشی خارجہ امور کے حوالے سے ایسی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں جو تیونس کی سرکاری سفارت کاری کے مقابل "متوازی سفارت کاری" کے زمرے میں آتی ہیں۔

تیونس میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو میں الغنوشی نے واضح کیا کہ بیرون ملک ان کے رابطے درحقیقت " عوامی سفارت کاری کے زمرے میں آتے ہیں جو ریاست کی سرکاری سفارت کاری کا نعم البدل نہیں"۔

الغنوشی کے مطابق عوامی سفارت کاری کسی طور سرکاری سفارت کاری کی راہ میں حائل نہیں ہوتی بلکہ یہ اس کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ بیرونی دوروں کے حوالے سے ہمیں کسی قسم کی سرکاری تنبیہہ موصول نہیں ہوئی اور نہ ہم نے بیرون ملک کسی قسم کے معاہدے کیے ہیں کیوں کہ یہ سرکاری اداروں کا کام ہے۔ الجزائر کے حالیہ دوروں میں بات چیت کا محور لیبیا کی صورت حال رہی۔

الغنوشی نے زور دے کر کہا کہ تونس اور الجزائر کی سیاسی پالیسی کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ کسی طرح لیبیا میں تمام قوتوں کے درمیان تصفیے کے ذریعے امن و استحکام کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ الغنوشی نے خطے میں استحکام کے حوالے سے الجزائر کے کردار کی اہمیت کو باور کراتے ہوئے کہا کہ الجزائر کے ساتھ تیونس کا تزویراتی نوعیت کا تعلق ہے۔ النہضۃ تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عرب ممالک بالخصوص لیبیا میں جاری بحران اور مسائل کا بہترین حل " قومی ہم آہنگی اور مطابقت" ہے۔ اسی کے ذریعے الجزائر اور تیونس میں بھڑکی ہوئی آگ کے شعلوں کو بجھایا گیا۔

اس الزام کے جواب میں کہ الغنوشی شدت پسند جماعتوں کے لیے "غضب ناک اسلام" کی اصطلاح استعمال کر کے دہشت گردی کو سراہنے کی کوشش کر رہے ہیں.. الغنوشی نے واضح کیا کہ "مذکورہ اصطلاح کا تعلق عمرانیات سے ہے اور انہوں نے اِن مجرموں کی تعریف نہیں کی بلکہ وہ اِن کو عقل ، قانون اور مذہب کے پیرائے سے خارج شمار کرتے ہیں۔ الغنوشی نے باور کرایا کہ ان کی تحریک دہشت گردی کے حوالے سے ریاست کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے کیوں کہ اس موقف کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنا درحقیقت دہشت گردی کے کام آنا ہے۔

راشد الغنوشی کے مطابق تیونس کامیابی کے ساتھ جمہوریت کی جانب منتقل ہو چکا ہے اب اس نے اقتصادی مضبوطی کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی نظام جمہوریت کے لیے موزوں ہے اور یہ بہترین سیاسی نظاموں میں سے ہے۔

الغنوشی نے کہا کہ ریاست کی کمزوری کا تعلق سیاسی نظام سے نہیں ہے بلکہ ہر انقلاب کے بعد اس طرح کی صورت حال سامنے آتی ہے۔ البتہ تیونس میں ریاست کی بقاء مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر السبسی کے زیرِ قیادت سیاسی ہم آہنگی جس کو النہضۃ تحریک کی حمایت حاصل رہی اُس نے تیونس کو دیگر ممالک والے انجام تک پہنچنے اور تقسیم کے خطرات سے بچایا۔

سیاسی اور اخلاقی طور پر شكری بلعید اور محمد البراہمی (دونوں کے قتل کا ارتکاب النہضہ تحریک کے دور حکومت میں کیا گیا) کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کرنے کے حوالے سے الغنوشی کا کہنا تھا کہ.. اس حوالے سے "النہضۃ" کو سیاسی طور پر ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے تاہم یہ استفسار کوئی نہیں کر رہا کہ حکومتی ٹرائیکا سے قبل اور بعد میں دہشت گرد کارروائیوں کی سیاسی ذمے داری کس کے سر ہے ! انہوں نے کہا کہ النہضۃ پر دہشت گردی کا الزام ایک سیاسی حیلہ ہے جب کہ النہضۃ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ الغنوشی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ڈانڈے اسلام سے نہیں بلکہ آمریت اور بدعنوانی سے جا کر ملتے ہیں۔ تیونس میں شدت پسندی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ خطے میں اس کا مقابلہ کرنے کا حل "جمہوری اسلام" اور ترقی میں پوشیدہ ہے۔ آزادی اور امن و امان ایک دوسرے کا مبادلہ نہیں کیوں کہ یہ ایک غلط مساوات ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت پر براجمان ہونے کے حوالے سے الغنوشی کا کہنا تھا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں اور ترکی – قطر اتحاد پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ تونس اور امریکا کے درمیان تقریبا 200 برس سے زیادہ پرانا تعلق ہے جو مشترکہ مفادات اور دوطرفہ احترام پر قائم ہے۔ عرب اور بین الاقوامی سیاسی منظر نامے پر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے کیا تبدیلیاں رُونما ہوں گی اس پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ الغنوشی کے مطابق فی الوقت عرب دنیا اور مشرق وسطی میں موجودہ بڑے توازنات میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے لہذا مرکزی حیثیت کے حامل ممالک مثلا الجزائر ، سعودی عرب اور ترکی کے کردار کے کمزور پڑنے کے متعلق بات ہر گز نہیں کی جا سکتی۔