مغربی موصل کا معرکہ۔۔ موبیلائزیشن ملیشیا کے بڑے کردار کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں داعش تنظیم کے خلاف جاری آپریشن کے اگلے مرحلے کے آغاز سے قبل پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا ایک مرتبہ پھر نمودار ہو گئی ہے۔ موبیلائزیشن کو کئی مرتبہ تنبیہہ جاری کی گئی تھی کہ وہ موصل کے معرکے سے دور رہے۔ تاہم آخر کار ایران نواز شیعہ ملیشیا نے تمام تر سرکاری تنبیہات کو چیلنج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ موصل شہر کے مغرب میں آئندہ ہونے والے معرکوں میں فعال صورت میں شریک ہوگی۔ ملیشیا کے ذمے داران نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی زیادہ توجہ تلعفر ضلع پر مرکوز رہے گی۔

موبیلائزیشن ملیشیا کے ترجمان کریم النوری نے باور کرایا ہے کہ موصل کے مغربی حصے میں ہونے والی لڑائی میں ان کی فورسز کا بہت بڑا کردار ہوگا.. بالخصوص تلعفر کے معرکے میں جس ملیشیا کے عناصر نے کافی عرصے سے محاصر کیا ہوا ہے اور وہ اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

عراقی قومی سلامتی کے مشیر فالح الفیاض نے جو پاپولر موبیلائزیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ تلعفر کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے پاپولر موبیلائزیشن فورسز کے شہر میں داخل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

موبیلائزیشن ملیشیا کے حوالے سے العبادی کا موقف

تاہم پاپولر موبیلائزیشن کے ذمے داران کے بیانات عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے اس عہد کی خلاف ورزی ہیں جس کے تحت العبادی نے بار ہا یہ اعلان کیا تھا کہ آزاد کرائے جانے والے شہروں میں اکیلی عراقی فوج داخل ہوگی۔ ان علاقوں میں تلعفر بھی شامل ہے جہاں سنی اور شیعہ ترکمانوں کی غالب اکثریت آباد ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم العبادی نے نائب صدر اسامہ النجیفی اور بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ موبئلائزیشن ملیشیا کو تلعفر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ترکی نے بھی اپنے طور پر اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ معلوم رہے کہ تلعفر موصل شہر سے تیس میل مغرب میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں